کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 135
علما کے کلام سے اقتباسات تو باعثِ طوالت ہوں گے، وہ ہم نے اس مسئلے سے متعلقہ اپنی مفصّل کتاب میں ذکر کر دیے ہیں، یہاں صرف ان کے اسمائے گرامی اور حوالے کی کتابوں کے نام ذکر کر دیتے ہیں: 1۔ علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ ۔ (عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري: ۶/ ۱۴) 2۔ مشائخِ حنفیہ خصوصاً امام محمد رحمہ اللہ ۔ (بقول ملا جیون، تفسیر احمدی، ص: ۴۲۷ کریمی بمبئی) 3۔ سرّی نمازوں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ و امام محمد رحمہ اللہ ۔ (ہدایۃ: ۱/ ۱۰۱ و مع شرح فتح القدیر: ۱/ ۲۴۱، عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایۃ: ۱/ ۱۵۳ از مولانا عبدالحي حنفی لکھنوي، فصل الخطاب علامہ کاشمیری، ص: ۲۹۸، مع الکتاب المستطاب) 4 ،5 امام محمد کے شاگرد امام ابو حفص کبیر اور شیخ التسلیم نظام الدین بیروی۔ (مسک الختام نواب صدیق حسن خان: ۱/ ۲۱۹، إمام الکلام، ص: ۳۸، فتاویٰ اولیائے کرام و فقہائے عظام، ص: ۲۴ طبع شارجہ، تحقیق الکلام، ص: ۸) 6 علامہ انور شاہ کاشمیری۔ (العرف الشذي، ص: ۴۷) 7 ابو منصور ما تریدی۔ (تفسیرہ بحوالہ العرف الشذي) 8۔ دبوسی۔ (الاسراربحوالہ العرف الشذی) 9۔ ابوبکر رازی۔ (شرح مختصر الطحاوي بحوالہ العرف الشي) 10۔ امام رکن الدین علی السفری۔ (کتاب البنایۃ شرح ہدایۃ عیني: ۱/ ۷۱۲) 11۔ ملا علی قاری۔ (المرقاۃ شرح مشکوٰۃ: ۲/ ۳۰۱ و فتح المغطا شرح موطا، قلمی ورق ۴۰) 12 نظام الدین اولیاء شیخ محمد احمد بدایونی دہلوی۔ (نزہۃ الخواطر: ۲/ ۱۲۶ و مسلمانوں کا نظامِ تعلیم و تربیت از مناظر احسن گیلانی: ۱/ ۱۳۵) [1] ترمذي مع تحفۃ الأحوذي (۲/ ۲۳۰) طبع مدنی و بیروت۔