کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 125
سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ اس علم سے ’’راز، راز‘‘ میں اپنا کام لیا جائے۔ شعبۂ جاسوسی میں ہر خفیہ تنظیم کے اپنے اپنے کوڈ وَرڈز رضی اللہ عنہما علیہم السلام رضی اللہ عنہا حفظہ اللہ رحمہم اللہ ) (C علیہم السلام حفظہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی خفیہ اشارات یا خفیہ زبان ہوتی ہے، تا کہ کوئی دوسرا اس سے آگاہ نہ ہو اور معاملات کو ادا کرنے میں آسانی ہو۔ چنانچہ شیعہ کے فرقہ باطنیہ نے علم الاعداد کو رواج دیا اور اسے اپنے تمام تر مکتوبات اور پیغامات کا ذریعہ بنایا۔ ’’باطنیہ فرقہ وہی ہے جس کا ایک رہنما حسن بن صباح تھا، جس نے ’’قلعۃ الموت‘‘بنایا تھا اور عالمِ اسلام میں جس کے ارکان، جنھیں ’’فدائی‘‘ کہا جاتا تھا، تخریب کاری میں سرگرم تھے۔ آج بھی ملنگ اور خود ساختہ پیر اپنے تعویذات علم الاعداد میں لکھتے ہیں اور گفتگو میں رمزیہ کلمات کہتے ہیں۔ ملنگوں اور پیروں کا سلسلہ ایک ہی ہے اور برائے نام تصوّف کی جڑیں بھی اسی باطنیہ سے جا ملتی ہیں۔ شیعہ علما علم الاعداد کے خصوصی ماہر ہوتے ہیں اور وہ اس علم کی نسبت حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف کرتے ہیں۔ نہ صرف علم الاعداد کی نسبت بلکہ شیعہ کا تمام جدید مذہب حضرت جعفر صادق کی نسبت ہی سے ’’جعفریہ‘‘ کہلاتا ہے۔ تاریخ سے بھی یہ پتا چلتا ہے کہ حضرت جعفر رحمہ اللہ کی اس علم میں شہرت معروف ہے۔ چنانچہ اس علم الاعداد کو علم الجفر بھی کہتے ہیں اور علم الجمل بھی۔ جمل کا معنی ٰاونٹ بھی ہے اور ایک اونٹ شیعہ روایات کے مطابق قرآن سمیت غائب بھی ہے (ان کے مزعوم امام مہدی والا)۔ ’’حروفِ ابجد کو آٹھ کلموں میں پابند کیا گیا ہے، یعنی عربی کے حروفِ تہجی کی ترتیب کی بجائے انھیں مختلف ترتیب سے آٹھ کلمے بنا دیا گیا ہے اور ’’تقیہ‘‘ [1] مضمون نگار: ارفاق ملک لنڈن، مطبوعہ ماہنامہ ’’صراط مستقیم‘‘، برمنگھم، برطانیہ (جلد ۱۱، شمارہ ۱۲ ذوالقعدہ ۱۴۰۸ھ) ماہنامہ ’’نوائے اسلام‘‘ دہلی (جلد ۵، شمارہ ۸)