کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 116
1-اس بات کی دلیل بھی ایک تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے، جس کی طرف ابھی اشارہ گزرا ہے۔ 2-اس کی دوسری دلیل حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے۔[1] تیسرا صیغہ: تعوّذ کا تیسرا صیغہ یہ ہے کہ معروف تعوّذ میں ان دونوں اضافوں یعنی درمیان میں دو لفظ اور آخر میں تین الفاظ کو شامل کر کے یوں کہا جائے: (( اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ہَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ )) ان دونوں اضافوں کو بیک وقت جمع کرنے کی صریح دلیل حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی وہی حدیث ہے جو ہم پہلے صیغے کی دلیل کے طور پر ذکر کر آئے ہیں۔ تعوذ سِرّاً پڑھنا: تعوّذ کو خاموشی سے پڑھنا ہی مسنون ہے۔ کوئی امام ہو یا مقتدی، کوئی اکیلا ہو یا جماعت کے ساتھ، نماز سرّی قراء ت والی یعنی ظہر و عصر ہو یا جہری قراء ت والی یعنی فجر و مغرب و عشا اور جمعہ، و عیدین و غیرہ تعوّذ بہرصورت بلا آواز ہی پڑھنا ہے۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے المغنی میں لکھا ہے: ’’تعوّذ بلاآواز کرنا ہے، جہراً نہیں۔ اس سلسلے میںکسی کا کوئی اختلاف میرے علم میں نہیں ہے۔‘‘[2] تعوّذکس کس رکعت میں؟ اب رہی یہ بات کہ تعوّذ یا استعاذہ صرف پہلی رکعت کے شروع میں تکبیر و ثنا [1] ابن أبي شیبۃ و طبراني کبیر بحوالہ الإرواء (۲/ ۵۴) [2] المغني (۲/ ۱۴۶)