کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 114
’’اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دُوری فرما دے، جس طرح تُو نے مشرق و مغرب کے درمیان کی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے سفید کپڑے کی طرح پاک و صاف کر دے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔‘‘[1] ایسے ہی بہت سی دعائیں اور بھی ثابت ہیں، لیکن ہم انہی پر اکتفا کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ جماعت کھڑی ہو اور دوسری رکعت یا بعد والی کسی رکعت میں یا پہلی رکعت میں بھی قراء ت کے دوران میں آ کر ملیں تو آتے ہی نیت کے الفاظ کی گردان سے فارغ ہو کر تکبیر کہتے ہیں اور ’’سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ‘‘ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ امام کے قراء ت شروع کر چکنے کے بعد ثنا کا پڑھنا ضروری نہیں ہوتا۔ یہ بات فقہ حنفی کی معروف کتاب کبیری میں بھی لکھی ہے کہ جب امام قراء ت بالجہر شروع کر دے تو پھر ثنا نہ پڑھیں۔[2] کبیری کے اس مسئلے کی تائید کے ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں رہے کہ امام کے قرا ء ت بالجہر شروع کر چکنے کی طرح ہی اگر قراء ت بالسِّر والی نماز ہو اور پتا ہو کہ امام کب کا تکبیرِ تحریمہ کہہ چکا ہے اور اب وہ سورۃ فاتحہ کے آخر یا کسی دوسری سورت کے شروع میں ہو گا، تب بھی ثنا نہ پڑھیں، بلکہ تکبیرِ تحریمہ اور تعوّذ و تسمیہ کے بعد صرف سورۃ فاتحہ پڑھیں، کیوں کہ اس کے بغیر تو نماز ہی نہیں ہوتی، جس کی تفصیل اور دلائل اس کے موقع پر آئیں گے۔ ان شاء اللہ! یہیں یہ بات بھی پیشِ نظر رکھیں کہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد والی دعا و ثنا سے پہلے ’’بِسْمِ اللّٰہِ۔۔۔‘‘ پڑھنا ثابت نہیں ہے، لہٰذا جب تکبیر کہیں تو سیدھے ثنا ہی شروع کر دیں۔ [1] صحیح البخاري (۲/ ۲۲۷) رقم الحدیث (۷۴۴) صحیح مسلم (۳/ ۵/ ۹۶) صحیح أبي داود، رقم الحدیث (۷۰۳) سنن النسائي (۱/ ۱/ ۱۰۶) صحیح ابن ماجہ (۱/ ۱۳۵) مسند أحمد (۲/ ۲۳۱، ۲۹۴) المنتقیٰ (۱/ ۲/ ۱۹۱) [2] کبیری (ص: ۳۰۴) بحوالہ: نمازِ مسنون، سواتی (ص: ۳۲۶)