کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 113
ہے۔[1]اس موضوع کی متعدد احادیث کئی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔[2] ایک اضافہ : یہاں یہ بات بطورِ خاص نوٹ کر لیں کہ ہم نے خلیفۂ راشد امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی تین روایات ذکر کی ہیں۔ ان میں سے کسی میں بھی ’’وَجَلَّ ثَنَاؤُ کَ‘‘ کے الفاظ وارد نہیں ہوئے اور اس بات کا اعتراف تو فقہائے احناف میں سے صاحبِ ہدایہ وغیرہ نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ’’اور ’’جَلَّ ثَنَائُ کَ‘‘ کے الفاظ مشہور روایات میں نہیں ہیں، لہٰذا فرائض میں یہ الفاظ نہ پڑھے جائیں۔‘‘[3] 2-حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیرِ تحریمہ کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہتے اور پھر قراء ت شروع فرماتے تھے۔ ایک دن میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، تکبیر اور قراء ت کے مابین آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے ہیں۔ بتائیے تو سہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت کیا پڑھتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ پڑھتا ہوں: (( اَللّٰہُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَايَ کَمَا بَاعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اَللّٰہُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَایَايَ کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اَللّٰہُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خَطَایَایَ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ )) [1] صحیح أبي داوٗد (۱/ ۱۴۸) صحیح نسائي (۱/ ۱/ ۱۰۷) صحیح ابن ماجہ (۱/ ۱۳۵) [2] دیکھیں: التلخیص (۱/ ۱/ ۲۲۹) الإرواء (۲/ ۵۰۔ ۵۳) نصب الرایۃ (۱/ ۳۱۸۔ ۳۲۳) [3] الہدایۃ (۱/ ۶۶) بحوالہ نمازِ مسنون، سواتی (ص: ۳۲۵، ۳۲۶)