کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 105
پانچویں دلیل اور اس کی حقیقت: زیرِ ناف ہاتھ باندھنے کی دلیل کے طور پر وہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے جو مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے۔ اس کی اہمیت بڑھانے کے لیے بعض معاصرین نے نص اور حوالے سے پہلے لکھا ہے کہ محدث ابن ابی شیبہ جو امام بخاری و مسلم کے استاذ ہیں۔[1] وہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : ’’میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں کے اوپر ناف کے نیچے رکھتے۔‘‘[2] اس میں کوئی شک نہیں کہ محدّث ابن ابی شیبہ امام بخاری و مسلم کے استاذ ہیں، لیکن یہاں یہ بات ہے کہ اس حدیث میں ’’تَحْتَ السُّرَّۃِ‘‘ کے الفاظ اضافی ہیں، اصل نہیں۔ اس اجمال کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ابن ابی شیبہ والی سند کے ساتھ اس حدیث کو بعینہٖ امام احمد نے اپنی مسند میں (۴/ ۳۱۶)، امام نسائی نے اپنی سنن میں (۱/ ۱/ ۱۰۵) امام دارقطنی نے اپنی سنن میں (۱/ ۱/ ۱۸۶) اور امام بیہقی نے اپنی سنن کبریٰ (بحوالہ التعلیقات السلفیہ علیٰ النسائی) میں روایت کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی کے یہاں بھی ’’تَحْتَ السُّرَّۃِ‘‘ یا زیرِ ناف کے الفاظ نہیں ہیں۔ اس اضافے کے غیر صحیح ہونے پر عام محدّثین کے علاوہ کئی علمائے احناف نے بھی تحقیق کی ہے۔مثلاً: شیخ محمد حیات سندھی رحمہ اللہ : انھوں نے اپنے رسالے ’’فتح الغفور في وضع الأیدي علی الصُّدور‘‘ [1] نمازِ مسنون، صوفی عبد الحمید سواتی (ص: ۳۱۹) [2] بحوالہ عون المعبود (۲/ ۴۶۲) تحفۃ الأحوذي (۲/ ۸۴) المرعاۃ (۲/ ۳۰۱)