کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 104
اور انہی کے حوالے سے ابن الترکمانی نے ’’الجوہر النقي‘‘ میں، اور ایسے ہی بعض دیگر مولفین نے اپنی کتب میں بلاسند نقل کیا ہے۔ علامہ عبدالرحمن مبارک پوری ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ میں اور علامہ عبیداللہ رحمانی ’’المرعاۃ شرح المشکاۃ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اس کی سند ہی نامعلوم ہے۔ سند ہوتی تو دیکھتے کہ اس کے راوی مقبول بھی ہیں یا نہیں؟ علامہ ابن حزم یا دیگر مولفین کا اسے بلاسند نقل کر دینا اس بات کی دلیل ہر گز نہیں بن سکتا کہ یہ روایت قابلِ استدلال اور حجّت ہے۔[1] چوتھی دلیل : اسی طرح کی ایک اور روایت بھی ہے جسے شیخ ہاشم سندھی نے ’’دراھم الصرۃ‘‘ میں، زاہدی نے ’’شرح القدوري‘‘ میں، ایسے ہی ابن امیر الحاج اور پھر ابن نجیم نے ’’البحر الرائق‘‘ میں نقل کیا ہے۔ زاہدی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں ہے: ’’(یہ) تین چیزیں سنتِ مرسلین علیہم السلام میں ہیں: 1افطاری کرنے میں جلدی کرنا۔ 2سحری کھانے میں تاخیر کرنا 3 نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ کر زیرِ ناف باندھنا۔‘‘[2] اس حدیث کی سند بھی نامعلوم ہے اور اس کے بارے میں خود علمائے احناف ہی میں سے ابن امیر الحاج اور ابن نجیم نے کہا ہے کہ اس حدیث کو مرفوعاً اور موقوفاً روایت کرنے والے محدّثین نے اس حدیث میں ’’تَحْتَ السُّرَّۃِ‘‘ یا زیرِ ناف کا لفظ روایت نہیں کیا ہے۔ یہ شیخ ہاشم سندھی کا اپنی کتاب ’’دراہم الصرۃ‘‘ میں اس روایت پر تبصرہ ہے۔ (بحوالہ سابقہ) جس سے اس روایت کا ناقابلِ استدلال و اعتماد ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ [1] المرعاۃ (۲/ ۳۰۲) [2] بحوالہ التحفۃ (۲/ ۸۸، ۸۹)