کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 103
علمائے احناف کی کتب میں امام بخاری کے الفاظ کی اس تشریح سے معلوم ہو گیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت نہ تو قابلِ حجت و استدلال ہے، نہ یہ کسی دوسری حدیث کی شاہد بننے کے قابل ہے اور نہ اس کا کوئی اعتبار کیا جائے گا۔ دوسری دلیل اور اس کا تجزیہ : زیرِ ناف ہاتھ باندھنے کی دوسری دلیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: ’’نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر زیرِ ناف رکھنا۔‘‘[1] اس روایت کی سند میں بھی وہ راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی موجود ہے جو ’’تـحتَ السُّرۃ‘‘ یا زیرِ ناف ہاتھ باندھنے کا پتا دینے والی پہلی حدیث میں ہے جس کے بارے میں محدّثین کرام کے تنقیدی اقوال اور فیصلے ہم پہلی حدیث کے ضمن میں ذکر کر چکے ہیں۔ لہٰذا اس جرح و تنقیدکو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تیسری دلیل ۔۔۔ بلا سند: زیرِ ناف ہاتھ باندھنے کی تیسری دلیل وہ روایت ہے جسے علامہ ابن حزم نے ’’المحلّٰی‘‘ میں حضرت اَنس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے جس میں ہے : ’’افطار کرنے میں جلدی کرنا، سحری میں تاخیر کرنا اور نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر زیرِ ناف باندھنا، یہ تینوں اخلاق و عاداتِ نبوت میں سے ہیں۔‘‘ [2] ہاتھ باندھنے کے بارے میں اس مفہوم کی بعض صحیح احادیث گزری ہیں، لیکن ان میں سے کسی میں بھی زیرِ ناف کا لفظ نہیں ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ والی یہ روایت جس میں زیرِ ناف کا لفظ ہے، اسے علامہ ابن حزم نے اپنی کتاب ’’المحلٰی‘‘ میں [1] ضعیف سنن أبي داوٗد (ص: ۷۴) [2] المحلّٰی (۲/ ۴/ ۱۱۳، مسئلۃ ۴۴۸) الجوہر النقي (۲/ ۳۲)