کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 91
قبروں پر مجاور بن کر بیٹھنے،اعتکاف کرنے،اُن کا طواف کرنے،اُن پر سجدے کرنے اور وہاں نمازیں پڑھنے کے متعلق حضرت ابومرثدغنوی رضی اللہ عنہ کی راویت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((لَا تَجْلِسُوْا عَلَی الْقُبُوْرِ وَلَا تُصَلُّوْااِلَیْھَا))[1] ’’قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی انکی طرف منہ کرکے وہاں نماز پڑھو۔‘‘ قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغاں کرنے کے متعلق بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے: ((لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ(صلی اللّٰه علیہ وسلم)زَائِرَاتِ الْقُبُوْرِ وَالْمُتَّخِذِیْنَ عَلَیْھَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ))[2] ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغاں کرنے والوں پر لعنت کی ہے۔‘‘ قبروں پر کپڑے‘پھولوں کی چادریں اور غلاف چڑھانے کے بارے میں ارشادِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَا مُرْنَااَنْ نَّکْسُوْا الْحِجَارَۃَ وَالطِّیْنَ))(صحیح مسلم) ’’اللہ نے ہمیں پتھر اور مٹی کو لباس پہنانے کا حکم نہیں دیا۔‘‘ معروف حنفی عالم قاضی ثناء اللہ پانی پتی طوافِ قبور،سالانہ عُرس اور دیگر بدعات کے متعلق لکھتے ہیں: (لاَ یَجُوْزُ مَا یَفْعَلُ الْجُھَّالُ بِقُبُوْرِ الْاَوْلَیِائِ وَالشُّھَدَآئِ مِنَ السُّجُوْدِ وَالطَّوَافِ حَوْلَھَا وَاِتَّخَاذِ السُّرُجِ وَالْمَسَاجِدِ عَلَیْھَا وَمِنْ الْاِجْتِمَاعِ بَعْدَ الْحَوْلِ کَا لْاَعْیَادِ وَیُسَمُّوْنَہٗ عُرْساً)(تفسیر مظھری) [1] صحیح مسلم،کتاب الجنائز:۹۷۔۹۸ [2] ابوداؤد،ترمذی،نسائی