کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 89
اَوِالْمَسْجِدِ اَوِالْبَیْتِ بِدْعَۃٌ مَذَمُوْمَۃٌ لِاَنَّہٗ لَمْ یُنْقَلُ مِنَ الصَّحَابَۃِ شَیٌٔ)(رَدّ البدعات) ’’بالخصوص میّت پر قرآن خوانی کے لیے قبر،مسجد یا گھر پر اجتماع کرنا مذموم بدعت ہے،کیونکہ اس کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کچھ منقول نہیں۔‘‘ قران خوانی: قبر کے پاس بیٹھ کر قرآنِ کریم پڑھنا اور اسے ختم کرنا بھی بدعت ہے۔[1] 5۔ علّامہ مجد الدین فیروز آبادی رحمہ اللہ صاحبُ القاموس المحیط‘ لکھتے ہیں: (عادت نبود کہ برائے میّت جمع شوند،قرآن خوانندوختمات کنندنہ برگور ونہ غیرِآں مکان،وایں بدعت است ومکروہ)(سفر السعادت) ترجمہ:’’اسلاف میں میّت کے لیے قبر پر یا کسی بھی دوسری جگہ جمع ہوکر قرآن پڑھنے اور ختم کہنے کا کوئی رواج نہ تھا۔یہ بدعت اور مکروہ ہے۔‘‘ ایسے ہی’’اہلِ سنّت والجماعت‘‘ کی دیگر کتابوں مثلاً صغیری،کبیری،عینی،شرح ہدایہ،مصفّٰی،خلاصہ،ردالمحتار،ردّ البدعات علّامہ آفندی اور جامع الروایات وغیرہ میں بھی ان رسومات کو بدعت ومکروہ قرار دیا گیا ہے۔ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرِ؟ مقابر پر بدعات: جس طرح مرگ پر بہت سی بدعات ہمارا معمول ہیں،اسی طرح مقابر پر بھی انواع واقسام کا شرک اور لاتعداد بدعات زیرِ عمل ہیں۔مثلاً قبر پر خیمہ نصب کرنا اور کسی(حافظ وقاری)کا اسمیں چالیس راتیں یا کم و بیش رہنا بھی بدعت ہے۔[2] قبروں پر کتبے لگانا [1] سفر السعادہ،ص:۵۷،المدخل۱؍۲۶۷۔۲۶۶ [2] المدخل۳؍۲۷۲،جلاء القلوب،ص:۸۳،احکام الجنائز،ص:۲۵۷