کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 85
اوروہ مزید لکھتے ہیں: (مَنْ ظَنَّ اَنَّہٗ سُنَّۃٌ قِیَاساً عَلٰی نُدُبِھَا لِلْمَوْلُوْدِ اِلْحَاقَابِخَاتِمَۃِ الْاَمْرِ بِاِبْتِدَائِہٖ لَمْ یُصِبْ) ’’جس نے اس کے سنّت ہونے کو بچے کے کان میں آذان دینے پر قیاس کیا کہ اس کا انجام بھی ابتداء کی طرح خیر پر ہو،وہ غلطی پر ہے۔‘‘ آج کل اللہ خیر کرے،یہودی نے ایک اور مکّارانہ وعیارانہ چال چلی ہے،بچے کے کان میں آذان کہہ کر اسلامی رُوح پھونکنے کی بجائے اُسے اس جہاں میں قدم رکھتے ہی نغمہ وموسیقی سنائی جاتی ہے اور اسے میڈیکل کا ایک مسئلہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔یہ چیز ماڈرن طرز کے میٹرنٹی ہومز(زچہ بچہ سنٹرز)میں روز افزوں رواج پذیر ہورہی ہے۔یہودی چاہتا ہے کہ جنم لیتے ہی’’شاہین بچے‘‘کو ایسی چاٹ لگاؤ جو اس کی زندگی میں رچ بس جائے،اس کی قوتِ ایمانی زائل ہوجائے اور وہ ہمارا دست وبازو بن جائے۔ع نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اہلِ میت کے گھر کھانا ونوحہ: ہمارے یہاں جو معروف ہے کہ میّت کے پسماندگان تعزیت کیلئے آنے والوں کیلئے کھانا تیار کرتے ہیں،یہ قطعاََ خلافِ سنت ہے بلکہ مسند احمد و ابن ماجہ کی ایک صحیح سند والی حدیث میں حضرت جریر بن عبداﷲ البَجَلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((کُنَّا نَعُدُّ الْاِجْتِمَاعَ اِلٰی اَھْلِ الْمَیِّتِ وَصُنْعَۃَ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِہٖ مِنَ النِّیَاحَۃِ))[1] ’’تدفین کے بعد ورثاء میت کے ہاں اجتماع کرنے اور کھانا تیار کرنے کو ہم [1] ابن ماجہ،مسند احمد،احکام الجنائز،ص:۱۷۶