کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 84
قبر کو اوپر سے کوہان نما(ڈھلان والی)بنانا چاہیے کیونکہ صحیح بخاری،بیہقی اور ابن ابی شیبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں خلفاء حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کی یہی شکل مذکور ہے۔[1] قبرپر آذان؟ میت کو قبر میں اتارتے وقت یا تدفین سے فارغ ہوکرآجکل بعض جگہوں پر جو آذان کہی جاتی ہے اس کا شریعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں کہیں سراغ نہیں ملتا بلکہیہ عہدِ رسالت،زمانہ ٔ صحابہ اور دورِ آئمہ کے بعد کی ایجادِنواور بدعت ہے۔[2]اگر کوئی اس کا ثبوت پوچھ بیٹھے تو جواب ملتا ہے کہ جب بچہ اس جہانِ رنگ وبُو میں آتا ہے تو اُس کے کان میں آذان کہی جاتی ہے تاکہ اس کی سماعت کا آغاز توحید ورسالت کے پاکیزہ کلمات سے ہو۔[3]اسی طرح اس کے خاتمہ بالخیر کیلئے تدفین کے وقت آذا ن کہی جاتی ہے۔[4] ان سے پوچھیں کہ آیا یہ خاتمہ بالخیر قرآن کی کسی آیت سے ثابت ہوتا ہے؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں اس کا ذکر آیاہے؟یاخلفائے راشدین اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس پر عمل کیا؟کہیں سے بھی اس کا پتہ نہیں ملتا۔ شارح بخاری علّامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ سنّت نہیں،یہ بدعت اور ایجادِ بندہ ہے۔‘‘ [1] بحوالہ احکام الجنائز ۱۵۴ [2] دیکھیٔے فقہ حنفیہ کی کتاب شامی ۱؍۶۵۹،ایضاً دررالبحار اور بریلوی مسلک کی کتاب جاء الحق،ص:۲۰۳،احکام الجنائز،ص:۱۵۳ حاشیہ ابن عابدین ۱؍۸۳۷ [3] یاد رہے کہ اس آذان کا پتہ دینے والی احادیث بھی صحیح نہیں ہیں۔ [4] بوقتِ ولادت بچے کے کان میں آذان کہنے سے متعلقہ احادیث پر بھی بعض اہلِ علم نے کلام کیا ہے۔تفصیل کیلئے دیکھیئے:’’بذل المجھود فیما ورد من الآذان والاقامۃ فی اذنی المولود‘‘ازشیخ باسم طاہر عنایت۔دارالسنہ،الخبر