کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 83
میں وارد ہواہے۔[1] بعض فقہاء سے تسامح ہوا ہے اور انہوں نے یہ لکھ مارا ہے کہ پہلی لپ ڈالتے وقت کہیں:﴿مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ﴾دوسری لپ ڈالتے وقت کہیں:﴿وَفِیْھَانُعِیْدُکُمْ﴾اور تیسری لپ ڈالتے وقت کہیں:﴿وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرَیٰ﴾یہ بات کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اور ایک روایت جو کہ مسند احمد(۵؍۲۵۴)کی ہے،وہ سخت ضعیف وناقابلِ حجّت ہے۔[2] قبر کی اونچائی: قبر کو زمین سے بالشت بھر اونچا کرنا چاہیئے تاکہ وہ نظر آئے اور چلتے پھرتے کوئی اوپر سے نہ گزر ے نہ کوئی اوپر بیٹھے۔ابوداؤد،صحیح ابن حبان اور سنن کبریٰ بیہقی کی دو احادیث میں حضرت جابر اور حضرت مطلب بن ابووداعہ رضی اللہ عنہما کا بیان موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک زمین سے ایک بالشت کے قریب اونچی کی گئی اور(نشانی کے طور)پر اسکے سرہانے ایک اینٹ گاڑ دی گئی اور ایسا ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کے ساتھ کیا تھا اور پتھر نصب کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ پہچانی جا سکے اور دوسرے اہلِ خانہ کو بھی قریب دفن کیا جا سکے۔[3] امام شافعی فرماتے ہیں کہ مجھے محبوب یہ ہے کہ قبر کے اندر سے نکلنے والی مٹی پر کوئی اضافہ نہ کیا جائے ورنہ قبر بہت اونچی ہو جائے گی اسکی اونچائی صرف ایک بالشت کے قریب ہی کافی ہے اور امام نووی نے اسی مقدار پر تمام شافعیہ کا اتفاق نقل کیا ہے۔[4] [1] ابن ماجہ ۱؍۴۷۴،النیل۲؍۴؍۸۱۔۸۰،احکام الجنائز،ص:۱۵۳ [2] احکام الجنائز للالبانی،ص ۱۵۳ حاشیہ [3] ابوداؤد،ابن حبان۔الموارد ۲۱۶۰ بیہقی ۳؍۴۱۰ و حسنہ الالبانی فی الجنائز ۱۵۳ [4] کتاب الام شافعی ۱؍۲۴۵،المجموع شرح المہذب امام نووی ۵؍۲۹۶