کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 82
((۔۔۔۔وَدَفَنْتُکِ))’’میں تجھے دفن کرتا۔‘‘ [1] البتہ اس سلسلہ میں ایک شرط آئی ہے کہ اس رات اس کے شوہر نے اپنی کسی بیوی سے جماع نہ کیا ہو۔[2] اگر ایسا ہے تو پھر کوئی دوسرا آدمی قبر میں اتارنے کی ذمہ داری نبھائے چاہے وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لختِ جگر کواسی بناء پر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے قبر میں اتارا تھا۔[3] میّت کو قبر میں اتارنا: میت کو قبر کی پائینتی سے قبر میں اتارا جائے جیسا کہ ابوداؤد،مسند احمد،بیہقی اور مصنف ابن ابی شیبہ میں مذکور حدیث سے پتہ چلتا ہے۔[4] میت کو قبر میں دائیں کروٹ پر کر دینا چاہیئے جس سے اس کا مُنہ قبلہ کی طرف ہوجائے گا۔جیسا کہ علّامہ ابن حزم نے المحلّٰی میں ذکر کیا ہے کہ عہد ِرسالت سے آج تک یہی طریقہ معمول بہ آرہا ہے۔[5] قبر پر مٹی ڈالنا: دفن کرتے وقت وہاں موجود ہر شخص کیلئے قبر میں کم از کم تین لپیں مٹی ڈالنا مستحب و کارِ ثواب ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے سرہانے والی جانب سے تین لپیں مٹی ڈالی تھی جیسا کہ ابن ماجہ [1] قدمرّ وانظر احکام الجنائز،ص:۱۴۹۔۱۴۸ [2] بخاری،مسند احمد،مستدرک حاکم بیہقی بحوالہ الجنائز ۱۴۹ [3] حوالہ جات سابقہ [4] الفتح الربانی ۸؍۶۳۔۶۰،ابوداؤد مع العون۹؍۳۰۔۲۹،النیل ۲؍۴؍۸۲۔۸۰،احکام الجنائز،ص:۱۵۱۔۱۵۰ [5] المحلّٰی لابن حزم ۳؍۵؍۱۷۳،احکام الجنائز،ص:۱۵۱