کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 79
5۔ قرضدار کی نمازِ جنازہ بھی مشروع ہے جس کے دلائل پر مشتمل احادیث صحاح و سنن میں مذکور ہیں۔[1] اگرچہ شروع شروع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کی نماز نہیں پڑھتے تھے جن پر قرضہ ہو اور وہ اس قرض کی ادائیگی کے برابر مال نہ چھوڑ کر مرے ہوں تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کو فرما دیتے کہ تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔جیسا کہ صحیح بخاری،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی اور مسند احمد کی بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے۔[2] اور پھر جب فتوحات کے نتیجہ میں بیت المال غنی ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میت کا قرضہ ادا کردیتے اور نماز جنازہ بھی پڑھا دیتے تھے جیسا کہ صحیحین وسنن اربعہ،دارمی،طیالسی اور مسند احمد کی احادیث شاہد ہیں۔[3] قبر پر نمازِ جنازہ: اگر کوئی شخص وفات پا جائے اور اسے نماز جنازہ پڑھے بغیر یا پھر بعض لوگوں نے پڑھ لی اور بعض نہ پڑھ سکے ہوں جن میں ہی امام بھی ہو تو اسکی تدفین کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنا بھی جائز ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جھاڑو دینے والی ایک عورت اور بعض دیگر لوگوں کی قبروں پرجا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا با جماعت نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہے۔[4] لیکن اگرایسی کوئی صورت نہیں تو پھر سامنے میت رکھ کر قبرستان کے اندر اس کی نماز جنازہ جائز نہیں جیسا کہ معجم طبرانی اوسط،الاحادیث المختارہ للضیاء المقدسی اور مصنف ابن ابی [1] بحوالہ احکام الجنائز،ص:۸۶۔۸۵ [2] دیکھیے:احکام الجنائز للالبانی،ص ۸۵۔۸۶ [3] دیکھیے:احکام الجنائز للالبانی،ص ۸۵۔۸۶ [4] بخاری وفتح الباری ۳؍۲۰۴،۲۰۵،۲۰۷،۲۰۸،الفتح الربانی۷؍۲۲۳۔۲۲۹،النیل ۲؍۴؍۸۹۔۸۸،ابوداؤدمع العون ۹؍۵۰۳،احکام الجنائز،ص:۸۹۔۸۷ وانظر ایضاً،ص:۱۰۸،۲۱۰تا۲۱۵