کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 76
3۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا اختیار یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے علاقے میں وفات پائے جہاں اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی گئی ہو اس کی نماز،جنازہ غائبانہ پڑھی جائے گی جیسا کہ نجاشی کا واقعہ ہے کیونکہ ان کی وفات کفار کے مابین ہوئی تھی اور انکی نماز ِ جنازہ کسی نے نہیں پڑھی تھی۔اور اگر کسی کی وفات کے مقام پر اسکی نماز جنازہ پڑھی گئی ہوتو پھر اسکی نمازِ جنازہ گائبانہ نہیں پڑھی جائے گی۔حنابلہ کے تین اقوال میں سے صحیح تر یہی ہے۔[1] اسی رائے کو امام خطابی شافعی نے معالم السنن میں اختیار کیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ نجاشی اسلام لے آئے تھے اور مسلمان فوت ہو تو اسکی نمازِ جنازہ پڑھنا واجب ہے اور حبشہ میں انکی نمازِ جنازہ کسی نے نہیں پڑھی تھی لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھی تھی۔ غرض اسی بناء پر جس کی نمازِ جنازہ اسکی جائے وفات پر پڑھی جائے اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور اگر کسی بھی وجہ سے وہاں اسکی نمازِ جنازہ نہ پڑھی گئی ہوتو پھر غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھناسنّت ہے۔ علّامہ خطابی مزید لکھتے ہے: ’’بعض اہلِ علم نمازِ جنازہ غائبانہ کو مکروہ قرار دیتے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ نجاشی والا واقعہ انہی کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ بعض روایات کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انکی نعش دکھا دی گئی تھی۔لیکن یہ تاویل فاسد ہے کیونکہ تخصیص کسی صحیح دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ [2] امام نووی رحمہ اللہ نے المجموع شرح المہذب میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نجاشی کی نعش دکھلا دی گئی تھی یہ روایت محض تخیل کی پیداوار وجعلی ہے اور پھر انہوں نے معاویہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ غائبانہ کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر زمین کے سمیٹ لیے جانے والی روایت ذکر کرکے اسے بھی انہوں نے امام بخاری وبیہقی کے حوالے سے ضعیف قرار دیا ہے۔[3] [1] زاد المعاد ۱؍۵۱۹۔۵۲۱ [2] معالم السنن خطابی ۱؍۱؍۲۷۰ [3] المجموع ۵؍۲۰۹تا۲۱۰