کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 75
دیگرمتفرّق مسائل ِ جنازہ نماز جنازہ غائبانہ: امام شافعی،احمدبن حنبل،جمہور سلف اور تمام علماء حدیث کے نزدیک نمازِ جنازہ غائبانہ صحیح ہے اور انکی دلیل نجاشی کی نمازِ جنازہ والا واقعہ ہے۔علّامہ ابن حزم لکھتے ہیں کہ کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں کہ وہ نمازِ جنازہ غائبانہ سے کسی کومنع کرتے ہوں۔[1] جبکہ بعض اہلِ علم کہا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ پر وفات پاجائے جہاں لوگوں نے اس کی نماز ِ جنازہ نہ پڑھی ہوتو اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نجاشی ٔ حبشہ کی نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھنے والا واقعہ ہے جو کہ صحیح بخاری ومسلم،سنن اربعہ،ابن حبان،بیہقی،طیالسی اور مسند احمد میں وارد ہوا ہے۔[2] علّامہ ابن قیم نے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر کسی کی نمازِ جنازہ غائبانہ نہیں پڑھا کرتے تھے لیکن صحیح احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نجاشی کی نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھنا ثابت ہے اسکی بنا پر اس میں تین طرح کا اختلاف ہے: 1۔ اس واقعہ میں ہر کسی کی نماز ِ جنازہ غائبانہ پڑھنے کی دلیل ہے اور یہ امام شافعی واحمد رحمہما اللہ کا قول ہے۔[3] 2۔ یہ صرف نجاشی کے ساتھ ہی خاص ہے کسی دوسرے کیلئے نہیں اور یہ امام ابوحنیفہ ومالک; کی رائے ہے۔[4] [1] المحلّٰی۳؍۵،فتح الباری ۳؍۱۸۸۔۱۸۹ [2] بخاری مع الفتح ۳؍۸۶،۲۰۲،ابوداؤد مع العون۹؍۵۔۲۱،الفتح الربانی ۷؍۲۱۸۔۲۲۳،مفصل تخریج کے لیے دیکھیے:احکام الجنائز للالبانی،ص ۹۰۔۹۱ [3] فتح الباری ۳؍۱۸۸۔۱۸۹ [4] دیکھیے:فتح القدیر شرح ہدایہ ۱؍۴۵۶