کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 71
اُس سے سوال کیا جائے گا۔‘‘ اس کے بعد قبرستان سے نکل کر یا اس قبر سے چالیس قدم واپس آکر جو دُعاء کی جاتی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں ہے۔[1] بلکہ اس کے بعد میت والوں کے گھر میں آج کل ایک دو نہیں پورے چالیس دن تک جن رسوم کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے وہ کچھ بھی ثابت نہیں اور جو تعزیت ثابت ہے وہ غیر ثابت رسموں اور رواجوں تلے دب کر رہ گئی ہے،ان رسوم کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر کی مختصروضاحت بھی آگے آ رہی ہے۔ الغرض صحیح بخاری شریف اور دیگر کتبِ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جو شخص اﷲتعالیٰ پر ایمان اور اس سے اجر وثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ چلا،نمازِ جنازہ پڑھنے اور اسے دفن کرنے تک ساتھ رہا وہ دوقیراط اجر لے کر واپس آتا ہے اور ایک قیراط اُحد پہاڑ جتنا ہے اور جو شخص نمازِ جنازہ پڑھ کر تدفین میں شریک ہونے سے پہلے ہی واپس لوٹ آئے وہ بھی ایک قیراط ثواب لے کر لوٹتا ہے۔‘‘[2] تکبیراتِ جنازہ کے ساتھ رفع الیدین: نمازِ جنازہ کی تکبیروں کے ساتھ رفع یدین کرنی چاہیئے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں اہل علم کے دوقول ہیں۔پہلی تکبیر کے ساتھ دونوں ہاتھوں کو کانوں یا کندھوں تک اٹھانا تو تمام آئمہ وفقہا ء کے نزدیک مشروع و مسنون ہے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ترمذی،دارقطنی اور بیہقی میں صحیح سند سے ثابت بھی ہے،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَبَّرَ عَلَیٰ جَنَازَۃٍ فَرَفَعَ یَدَیْہِ فِیْ اَوَّلَ تَکْبِیْرَۃٍ وَ [1] جنازے کے مسائل،ص:۱۵۳ [2] بخاری مع الفتح۱؍۱۰۸باب اتباع الجنائز من الایمان۳؍۱۹۶