کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 70
جنازہ کے فوراََ بعد دعاء کرنے کی رسم: نمازِ جنازہ کی ادائیگی سے فارغ ہو کر(ہمارے ممالک میں عموماََ مقامی زبان میں)دُعاء کرنے کا جورواج پایا جاتا ہے وہ محض ایک رسم ہے جسے میت کے پسماندگان کے دل جیتنے اور شائد جنازہ پڑھانے کا معاوضہ بڑھانے کیلئے رواج دے دیا گیا ہے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،تابعین حتی کہ آئمہ اربعہ میں سے کوئی بھی اس دعاء کا قائل و فاعل نہیں تھا اور کبار علمائے احناف میں سے ملا علی قاری نے بھی نمازِ جنازہ کے بعد والی اس خود ساختہ دُعاء کی تردید کی ہے۔[1] تدفین: نمازِ جنازہ کے بعد میت کی چارپائی کو قبر کے پاس لایا جائے اور اُسے اسکے قریبی عزیزقبر میں اتاریں۔اس موقع پر بھی عموماََ کلمۂ شہادت پکارا جاتا ہے حالانکہ ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،ابن حبان،مسند احمد،بیہقی اور مستدرک حاکم میں میت کو قبر میں اُتارتے وقت کا جو ذکرِ مسنون منقول ہے وہ یہ ہے: ((بِسْمِ اللّٰہ وَعَلٰی سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہ۔))یا((بِسْمِ اللّٰہ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہ))یا پھر((بِسْمِ اللّٰہ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِاللّٰہ))[2] ’’اللہ کے نام سے اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت وملت پر۔‘‘ دعاء ثبات و مغفرت: تدفین سے فار غ ہونے کے بعد تمام حاضرین مِل کر میّت کیلئے ثابت قدمی اور مغفرت کی دعاء کریں کیونکہ ابوداؤد،بیہقی اور مستدرک حاکم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب میّت کی تدفین سے فارغ ہوجاتے تو فرماتے: ((اِسْتَغْفِرُوْا لِاَخِیْکُمْ وَسَلُوْالَہٗ التَّثَبُّتَ فَاِنَّہٗ الْآنَ یُسُئَلُ))[3] ’’اپنے بھائی کے لیے بخشش کی دُعاء مانگو اور ثابت قدمی کا سوال کرو کیونکہ اب [1] بحوالہ جنازے کے مسائل مولانا فضل الرحمن،ایم اے،ص:۱۳۵ [2] نیل الاوطار ۲؍۴؍۸۰،الفتح الربانی ۸؍۵۸،احکام الجنائز وبدعہا،ص:۱۵۲۔۱۵۱ [3] نیل الاوطار ۲؍۴؍۸۹،احکام الجنائز وبدعہا،ص:۱۵۶