کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 67
یوں صاف وپاک کردے جیسے کپڑے کومیل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔اسے اسکے گھر سے اچھا گھر دے۔اس کے اہلِ خانہ سے اچھے اہلِ خانہ دے اور اسے اس کی بیوی(شوہر)سے اچھی بیوی(شوہر)دے۔اسے جنت میں داخل کراور عذابِ جہنم سے محفوظ رکھ۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بہترین دعاء سننے کے بعد راویٔ حدیث حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (فَتَمَنَّیْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَنَا ذَالِکَ الْمَیِّتَ)[1] ’’میں نے تمناّ کی کہ کاش !اس میت کی جگہ آج میری لاش پڑی ہوتی۔‘‘ یہ دُعاء سند کے اعتبار سے صحیح تر ہے جبکہ پہلی دعاء والی حدیث کی سند بھی محدّثین ِ کرام کے نزدیک صحیح ہے اور اُس پہلی دعاء کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ اس میں بچے بوڑھے جوان اور مردوزن سب کیلئے دعاء ہے اور ہر کسی کیلئے نمازِ جنازہ میں وہی پڑھی جاسکتی ہے لہٰذا صیغے بدلنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی جو کہ عام لوگوں کیلئے ویسے بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ 3۔تیسری دعاء: ابوداؤد،ابن ماجہ،ابن حبان اور مسند احمد میں یہ دعاء وارد ہوئی ہے: ((اَللّٰھُمَّ اِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِیْ ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جَوَارِکَ،فَقِہٖ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ وَاَنْتَ اَھْلُ الْوَفَائِ وَالْحَقِّ،فَاغْفِرْلَہٗ وَارْحَمْہُ،اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ))[2] ’’اے اللہ!فلان بن فلاں تیرے سپرد اور تیرے جوارِ رحمت میں ہے۔اسے عذاب ِقبر اور عذابِ جہنّم سے بچا۔تو بڑا اہل وفاء وحق ہے۔اسے بخش دے۔اس پر رحم فرما۔بیشک تو بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ [1] حوالہ سابقہ [2] ابوداؤد ۲؍۶۸،ابن ماجہ ۱؍۴۵۶،ابن حبان:۷۵۸،مسنداحمد ۳؍۴۷۱،احکام الجنائز للالبانی،ص ۱۲۵ وصححہ