کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 66
اس سے آگے ابوداؤد میں یہ بھی الفاظ ہیں: ((اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہٗ))[1] ’’اے اللہ! ہمیں اسکے اجر سے محروم نہ رکھ اور اسکے بعد ہمیں گمراہ نہ کردینا۔‘‘ یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ مذکورہ حدیث میں اس دعاء کے آخری الفاظ((وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہٗ))ہیں جبکہ ایک دوسری حدیث میں((وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ))ہیں۔یہ دوسری حدیث مؤطا امام مالک اور مؤطاامام محمدکی صحیح مگر موقوف حدیث میں مذکور ہے اور اس میں دُعاء ہی دوسری ہے۔[2] لہٰذا((اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِحَیِّنَا۔۔۔۔))کے آخری میں((وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہٗ))ہی پڑھنا چاہییٔ۔ 2۔دوسری دعاء: صحیح مسلم،نسائی،ابن ماجہ،بیہقی اور مسند احمد میں دوسری دعاء یہ مذکور ہے: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ وَارْحَمْہُ وَعَافِہٖ وَاعْفُ عَنْہُ وَاَکْرِمْ نُزُلَہٗ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہٗ وَاغْسِلْہُ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ،وَنَقِّہٖ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ،وَاَبْدِلْہُ دَاراً خَیْراً مِّنْ دَارِہٖ وَاَھْلاً خَیْراً مِّنْ اَھْلِہٖ وَزَوْجاً خَیْراً مِّنْ زَوْجِہٖ وَاَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَاَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ))[3] ’’اے اللہ! اسے بخش دے،اس پر رحم فرما،اسے عافیت عطا کر،اسے معاف کردے،اسکی اچھی مہمان نوازی کر،اسکے داخل ہونے کی جگہ کو کھلا کردے اور اس(کے گناہوں)کو پانی برف اور اولوں سے دھودے اور اسے خطاؤں سے [1] ابوداؤد ایضاً [2] مؤطا امام مالک مع التنویر۱؍۲۲۷،احکام الجنائز وبدعہا،ص:۱۲۵،مؤطا امام محمد بتحقیق عبدالوہاب عبداللطیف،ص:۱۱۱ طبع بیروت [3] صحیح مسلم ۲؍۶۶۳ بتحقیق محمد فؤاد عبدالباقی،الفتح الربانی ۷؍۲۳۸۔۲۳۷