کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 63
مزید برآں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ(گیارہویں والے پیر صاحب)کا نظریہ بھی یہی ہے کہ نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھی جائے۔[1] احناف و مالکیہ کا مسلک: امام ابوحنیفہ و مالک; جنازہ میں قراء ت ِ فاتحہ کے قائل نہیں۔احناف کے نزدیک قراء ت کے طور پر سورۂ فاتحہ کو پڑھنا مکروہ تحریمی اور مالکیہ کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے۔[2] بعض کبارعلمائے احناف،علاّمہ عبدالحئی لکھنوی اور صاحب نور الایضاح(علاّمہ شرنبلا لی)نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ کے مطلقاََ قائل ہیں اور اسے ہی اَولیٰ قرار دیتے ہیں۔[3] جبکہ سورۂ فاتحہ کو بطورِقراء ت نہیں بلکہ بطورِ دعاء پڑھنے میں توعام علمائے احناف کے نزدیک بھی کوئی حرج نہیں۔معلوم ہوا کہ بطورِ قراء ت ہویا بطورِ دعاء سورۂ فاتحہ کو پڑھ لینا بہرحال اَولیٰ اورمالکیہ کے سوا سب کے نزدیک جائز ہے۔[4] دوسری قراء ت: سورہ ٔفاتحہ کے بعد قرآن کریم کی کوئی دوسری سورت پڑھنا بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ صحیح بخاری،ابوداؤد،ترمذی،نسائی، دارقطنی،مستدرک حاکم،المنتقی ابن الجاروداور بیہقی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نمازِ جنازہ پڑھانے والے واقعہ میں مذکور ہے۔انہوں نے سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری سورت پڑھی بعد میں پوچھنے پر بتایا: ((اِنَّھَا سُنَّۃٌ وَحَقٌّ))[5] ’’یہ(قراء ت ِ فاتحہ و سورہ پڑھنا)سنت اور حق ہے۔‘‘ شافعیہ اور عام علمائے حدیث کا یہی مسلک ہے کہ سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری [1] غنیۃ الطالبین مترجم،ص:۹۰۶ [2] الفقہ علیٰ المذاھب الاربعہ ۱؍۵۲۱ [3] کتاب الجنائز للمبارکپوری،ص:۷۴،تحفۃ الاحوذی لہٗ ۴؍۱۱۱،امام الکلام،ص:۲۳۷ [4] بذل المجہود ۴؍۱۶۹،الکوکب الدری ۲؍۳۱۳،فتح القدیر ۱؍۴۵۹،الفقہ علیٰ المذاھب الاربعہ ۱؍۵۲۱ [5] نیل الاوطار ۲؍۴؍۶۰،ارواء الغلیل ۳؍۱۷۹ وصححّہٗ الالبانی