کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 60
اس پر چاروں آئمہ،محدّثینِ کرام اور فقہا ء کا اتفاق ہے کہ یہی افضل ہے۔اور تکبیر کہہ کر عام نماز کی طرح ہی صحیح احادیث کی رو سے سینے پر باندھ لیں۔ سورۃ الفاتحہ پڑھنا: دل میں نمازِ جنازہ کی نیت کرکے پہلی تکبیر ِ تحریمہ کے بعدیہ پڑھیں: ((اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ)) ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ﴾ کیونکہ صحیح بخاری،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،دارقطنی،مستدرک حاکم اور المنتقیٰ لابن الجارود میں طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ((صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہما عَلٰی جَنَازَۃٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ [وَسُوْرَۃً وَجَھَرَ حَتَّی اَسْمَعَنَا،فَلَمَّا فَرِغَ اَخَذْتُ بِیَدِہٖ فَسَأَلْتُہٗ؟ ] فَقَالَ:[اِنَّمَا جَھَرْتُ] لِتَعْلَمُوْا اَنَّھَا سُنَّۃٌ[وَحَقٌّ]))[1] ’’میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز ِ جنازہ پڑھی۔انہوں نے سورۂ فاتحہ اور ایک سورت پڑھی اور جہراً پڑھی حتی کہ ہمیں سنائی۔جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان سے(سورۂ فاتحہ)کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:میں نے اسے جہراً اس لئے پڑھا ہے تاکہ تمہیں پتہ چل جائے کہ اسکا پڑھنا ہی سنت وحق ہے۔‘‘ محدّثِ عصر علاّمہ البانی کے بقول:حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ نمازِ جنازہ میں((سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ۔۔۔۔۔۔۔))کو نہ پڑھا جائے،اور اس کی عدم ِ مشروعیت کا تذکرہ مسائل الامام احمدکے صفحہ ۱۵۳ پر امام ابوداؤ د نے بھی کیا ہے۔[2] [1] بخاری مع الفتح ۳؍۲۰۳،ارواء الغلیل ۳؍۱۷۸،نیل الاوطار ۲؍۴؍۶۰،احکام الجنائز للالبانی،ص ۱۱۹ [2] مسائل الامام احمد،ص:۱۵۳ بتحقیق محمد رشید رضا طبع بیروت،المغنی ۲؍۴۰۵۔۵۰۳،احکام الجنائز (