کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 59
میں آئمہ کی آراء مختلف ہیں:امام احمد،اسحاق بن راہویہ،عام محدّثین،فقہا ء شافعیہ ایک روایت میں امام ابوحنیفہ اِسی طرح امام ابویوسف اور امام طحاوی کے نزدیک اگر میت مرد کی ہو تو نمازِ جنازہ کیلئے امام اسکے سَر کے سامنے اور اگر عورت ہو تو اسکی کمر کے سامنے یعنی وسط میں کھڑاہو،اِن کا استدلال صحیح بخاری و مسلم،سنن اربعہ،مسند احمد اور بیہقی میں مذکور اُس حدیث سے ہے جس میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس کی حالت میں وفات پانے والی ایک عورت کی نمازِ جنازہ پڑھی اور اسکے وسط میں کھڑے ہوئے۔[1] جبکہ ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،مسند احمد اور ابن ابی شیبہ میں مردوعورت کے جنازہ کیلئے کھڑے ہونے کی تفریق بھی مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرد کے سر اور عورت کے وسط کے سامنے کھڑے ہوا کرتے تھے۔[2] ایک دوسرے قول کے مطابق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ میت خواہ مرد کی ہو یا عورت کی امام اسکے سینے کے سامنے کھڑا ہوگا،ان کے نزدیک وسط سے مراد کمر نہیں بلکہ سینہ ہے،اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک اس سلسلہ میں وسعت ہے کہ جہاں چاہے کھڑا ہو جائے کوئی پابندی نہیں۔ تکبیراتِ جنازہ اور ہاتھ باندھنا: تکبیراتِ جنازہ کی تعداد کے بارے میں متعدد احادیث وروایات ملتی ہیں جن میں چار سے لیکر نو تک کا ذکر آیا ہے۔[3] مگر صحیح تر اور عام و معروف حدیث سے نمازِ جنازہ کی چار تکبیروں کا پتہ چلتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم،سنن اربعہ اور مسند احمد میں شاہ ِحبشہ نجاشی کی غائبانہ نمازِ جنازہ والی حدیث میں چار ہی تکبیروں کا ذکر ہے۔[4] [1] بخاری مع الفتح الباری ۳؍۲۰۱،الفتح الربانی ۷؍۲۴۴ [2] فتح الباری وتعلیق ابن باز علیہ۳؍۲۰۱،الفتح الربانی ۷؍۲۴۳ [3] دیکھیئے:احکام الجنائز ۱۱۱ تا ۱۱۴ [4] بخاری مع الفتح ۳؍۲۰۲،الفتح الربانی ۷؍۲۲۹