کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 57
حدیثِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں نہیں ہیں،یہی وجہ ہے کہ محشّی ہدایہ نے بنایہ سے ہدایہ کے حاشیہ پر بھی نقل کیا ہے: (قولہ:فَلَا اَجْرَ لَہٗ۔قَالَ! ابْنُ عَبْدِالْبَرِّ:رِوَایَتُہٗ فَلَا اَجْرَلَہٗ خَطَأٌ فَاحِشٌ وَالصَّحِیْحُ:فَلَاشیَٔ لہٗ)[1] ’’ان کا کہنا کہ’’ اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔‘‘ ابن عبدالبرّ نے کہاہے کہ ان کا ان الفاظ’’ اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔‘‘ کا روایت کرنا ہی بہت بڑی خطا ہے۔صحیح یہ ہے کہ:اسکے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ دو یا تین صفیں بنا لینا: ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،بیہقی،مستدرک حاکم اور مسند احمد میں مذکوربعض ا حادیث کی بناء پر مستحب یہ ہے کہ اگر نمازی کم ہوں تو کم از کم تین صفیں بنا لی جائیں چنانچہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوْتُ فَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ ثَلَاثَۃُ صُفُوْفٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلَّا اَوْجَبَ(وفَیْ لَفْظٍ:)اِلَّا غُفِرَ لَہٗ))[2] ’’اگر کسی مسلمان کی نمازِ جنازہ میں تین صفیں شریک ہوجائیں تو اس پر جنت واجب ہوجاتی ہے۔(اور ایک روایت میں ہے:)اللہ اُسے بخش دیتا ہے۔‘‘ اسی طرح طبرانی کبیر کی ایک دوسری حدیث میں ہے: ((صَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلٰی جَنَازَۃٍ وَمَعَہٗ سَبْعَۃُ نَفَرٍ فَجَعَلَ ثَلَاثَۃً صَفًّا،وَاثْنَیْنِ صَفّاً))[3] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی نمازِ جنازہ پڑھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات آدمی [1] حوالہ سابقہ نیزتفصیل کیلئے دیکھیے:نتائج التقلید مولانا محمد اشرف سندھو،ص:۱۳۵ طبع ادارہ دعوۃ الحق بمبیٔ [2] احکام الجنائز وبدعہا،ص:۱۰۰۔۹۹،نیل الاوطار ۲؍۴؍۵۵۔۵۴ [3] بحوالہ سابقہ الجنائز