کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 56
آج کل مسجد نبوی اور مسجد حرام میں نمازِ جنازہ پڑھی جاتی ہے اور اسکا سبب بھی واضح ہے اور امام شوکانی کا میلان بھی مطلق جواز کی طرف ہی ہے۔[1] تحریف کا ایک نمونہ: اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کی دھن میں بعض دفعہ آدمی خمول وذہول کی سی کیفیت میں اصل الفا ظِ حدیث میں بعض مَن گھڑت الفاظ کا اضافہ بھی کر گزرتا ہے جو کبھی عمداََ اور کبھی سہواََ بھی ہوسکتا ہے اسکی بہت سی مثالیں کتب ِفقہ میں موجود ہیں۔انہی میں سے ہی ایک یہ بھی ہے کہ احناف چونکہ مسجد میں نمازِ جنازہ کو جائز نہیں سمجھتے لہٰذا صاحبِ ہدایہ نے کتاب الجنائز،باب الصلوٰۃ علیٰ ا لمیت میں لکھا ہے: ((وَلَا یُصَلّٰی عَلٰی مَیِّتٍ فِی الْمَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ لِقَوْلِ النَّبِیِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم۔مَنْ صَلَّی عَلٰی جَنَازَۃٍ فِی الْمَسْجِد،فَلَا اَجْرَلَہٗ))[2] ’’مسجد میں با جماعت نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ’’ جس نے مسجد میں جنازہ پڑھا اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔‘‘ اِسی حدیث کو صاحبِ ہدایہ کی طرح ہی غلط انداز سے شیخ عبدالحق دہلوی نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب الجنائز میں بھی نقل کیا ہے اور پھر انہی کی اشعۃ اللمعات کے حوالے سے مولوی نور محمد دہلوی نے بھی اپنی مطبوعہ مشکوٰۃ میں اس حدیث کو کتاب الجنائز کے حاشیہ میں نقل کردیا ہے حالانکہ ہندی و مصری مطبوعہ و قلمی نسخوں میں سے کسی میں بھی یہ الفاظ: ((فَلَا اَجْرَ لَہٗ))’’اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔‘‘ [1] ناصر،الفتح الربانی ۷؍۲۵۰۔۲۴۹،کتاب الجنائز للمبارکپوری،ص:۵۴  نیل الاوطار ۲؍۴؍۶۹۔۶۸ [2] ہدایہ اولین ص۱۸۱،کتاب الصلوٰۃ،باب الجنائز،فصل فی الصلوٰۃ علی ا لمیت