کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 53
’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ[چھ] حقوق ہیں:۔۔۔(جب وہ مرجائے تو)اسکے جنازہ کو کندھا دینا(اور پھر پیچھے چلنا)۔‘‘ بلند آواز سے روتے ہوئے بخور اٹھائے چلنا: جنازہ کے پیچھے بلند آواز سے روتے ہوئے اور بخوُر وغیرہ اٹھائے ہوئے چلنا منع ہے،چنانچہ ابوداؤد اور مسند احمد میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ((لَا تُتَّبَعُ الْجَنَازَۃُ بِصَوْتٍ وَلَانَارٍ))[1] ’’جنازے کے پیچھے آواز اور آگ لے کر نہ چلا جائے۔‘‘ بلند آواز سے ذکر کرتے ہوئے چلنا: اِسی طرح جنازے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بلند آواز سے ذکر کرنا بھی ثابت نہیں بلکہ بیہقی میں حضرت قیس بن عبّاد رحمہ اللہ تابعی سے مروی ہے: ((کَانَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم۔یَکْرَھُوْنَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَالْجَنَائِزِ)) ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جنازوں کے پاس آواز بلند کرنے سے کراہت کرتے تھے۔‘‘[2] امام نووی رحمہ اللہ نے کتاب الاذکار میں لکھا ہے کہ سلف صالحین کا یہ عمل ہی صحیح ہے کہ جنازہ کے ساتھ خاموشی سے چلا جائے اور تلاوتِ قرآن،کلمۂ شہادت یا کوئی بھی ذکر بلند آواز سے نہ کیا جائے۔[3] [1] ضعفہٗ الالبانی فی الارواء۳؍۱۹۳ واستدل بہٖ مع ذکر الشواھد فی احکام الجنائز،ص:۷۰،الفتح الربانی ۸؍۷۱ [2] بیہقی۴؍۷۴،احکام الجنائز،ص:۷۱ وقال رجالہٗ ثقات [3] للتفصیل الاذکار،ص۱۳۶ بتحقیق الارناؤط طبع دمشق،حاشیہ احکام الجنائز وبدعہا للالبانی،ص:۷۱