کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 52
صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک قمیص اور نمازِ جنازہ سے بھی فائدہ نہیں ہوا تھا اور پھر اُس جیسوں کی نمازِ جنازہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع ہی کردیا گیا تھا۔[1] اِ س واقعہ میں بڑی عبرتیں اور لمحات ِ فکر ہیں۔ کفن پر دعائیہ کلمات لکھنے کا رواج: آج کل کفن پر دعائیہ کلمات لکھنے کا بھی کافی رواج ہے حالانکہ قرآن و سنت،خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے عمل،آثارِ صحابہ و تابعین اور آئمہ کرام،کسی سے بھی تو یہ فعل ثابت نہیں اور جو کام خیرالقرون میں نہ ہو ا ہو وہ باعثِ خیروبرکت ہر گز نہیں ہوسکتا۔[2] راہداری؟: کچھ ایسا ہی معاملہ میّت کیلئے ’’راہداری‘‘ کے طور پر قرآن کریم کے ڈھائی سپارے پڑھنے کا بھی ہے کہ جب میّت کو اُٹھا کر باہر لیجانے کا وقت قریب آتا ہے تو عموماََ میّت کی قریبی رشتہ دار عورتیں اس راہداری کا بندوبست کر دیتی ہیں،اسکا بھی شریعتِ اسلامیہ کے اصل مصادر سے کوئی ثبوت نہیں ملتا اور میّت کیلئے حقیقی راہداری اسکے اپنے نیک اعمال ہی بن سکتے ہیں۔ جناز ے کو کندھا دینا: جنازہ کو اٹھا کر جنازہ گاہ اور قبرستان کی طرف لیجاتے ہوئے عورتوں کے سوا تما م حاضرین کیلئے جنازے کو باری باری کندھا دینا اور اسکے پیچھے چلناواجب اور بڑا کارِ ثواب ہے اور میّت کا اپنے مسلمان بھائیوں پر یہ حق بھی ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلٰی الْمُسْلِمِ خَمْسٌ[سِتٌّ]۔۔۔اِتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ))[3] [1] تفصیل کیلئے سورۂ توبہ،آیت:۸۰ اور ۸۴،ان کی تفسیر اور صحیح بخاری شریف،کتاب الجنائز،باب الکفن فی القمیص۔۔الخ مع الفتح ۳؍۱۳۸ [2] التراتیب الاداریۃ ۱؍۴۴۰،رد المحتار علی الدرالمختار۱؍۸۴۸۔۸۴۷،احکام الجنائز،ص:۲۴۸ [3] بخاری،مختصرمسلم:۱۴۱۸،الصحیحہ:۱۱۳۲۔صحیح الجامع:۳۱۵۰،۳۱۵۱