کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 51
((اِدْفِنُوْھُمْ بِدِ مَائِھِمْ وَثِیَابِھِمْ))[1] ’’انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت ہی دفن کردو۔‘‘ ان کپڑوں پر کفن کے صرف ایک اور کپڑے کا اضافہ کرنا مستحب ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزۃ اور مصعب رضی اللہ عنہما کے ساتھ کیا تھا۔حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کے کفن کا واقعہ صحیح بخاری و مسلم،ترمذی،نسائی،مسند احمد اور بیہقی میں مذکور ہے جبکہ حضرت حمزۃ رضی اللہ عنہ کے کفن کا واقعہ ابوداؤد و ترمذی،مستدرک حاکم اور بیہقی میں ہے۔[2] کفن کو خوشبو لگانا: تکفین کے بعد کفن کو خوشبو لگانا بھی مستحب ہے جیسا کہ مسند احمد،صحیح ابن حبان،بیہقی،مستدرک حاکم اور ابن ابی شیبہ میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اِذَا جَمَّرْتُمُ الْمَیِّتَ فَاجْمِرُوْہُ ثَلَاثاً))[3] ’’کہ جب تم میت کو(بخور وغیرہ خوشبوکی)دھونی دو تو تین مرتبہ دو۔‘‘ لیکن احرام کی حالت میں وفات پانے والے کو خوشبو نہیں لگائی جائے گی جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث ابھی ہی گزر چکی ہے۔ کفن کو زمزم میں بھگونے کی رسم: یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ آجکل حجاج کرام اپنے لیے اور اپنے اعزاء واقارب کے لیے کفن کا کپڑا آبِ زمزم میں بھگو کر لاتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ و تابعین اور سلفِ صالحین سے اس بات کاکوئی ثبوت نہیں ملتا۔آبِ زمزم فی نفسہٖ تو بڑا با برکت ہے لیکن اگر مرنے والے کے عمل ہی درست نہ ہوں تو پھر آبِ زمزم تو کجا،عبداﷲبن ابیّ بن سلول کو تو نبی [1] نیل الاوطار ۲؍۴؍۴۰۔۳۹ وتکلم علیہ [2] بحوالہ احکام الجنائز،ص:۵۷۔۶۰ [3] احکام الجنائز ایضاً،ص:۶۴،الفتح الربانی۷؍۱۸۸صحیح الجامع الصغیر:۴۸۱