کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 49
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ مذکور ہے کہ انہیں صرف ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا۔[1] مستدرک حاکم میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کفن بھی اسی طرح کا مذکور ہے۔[2] 2۔ اگر میت کیلئے صرف ایک ہی چادر ہو اور وہ بھی اوپر پوری نہ آرہی ہو تو سَر کی طرف سے جتنے جسم پر آئے دے دی جائے اور پاؤں کی طرف سے جو جگہ بچے اس پر کوئی اِذخر(قسم کی گھاس پُھوس)ڈال دی جائے،یہ بھی صحیح بخاری اور دیگر کتب میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہی کی تکفین کے ضمن میں حکمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔[3] اپنا کفن خود تیار کرکے رکھ لینا: اپنے کفن کا اپنی زندگی میں ہی تیار کرکے رکھ لینا بھی جائز ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہی ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ میں مذکور ہے۔[4] اپنی قبر کھود کر رکھ لینا: بعض سلفِ صالحین کا جو اپنے لیے قبریں تیار کر لینا مذکور ہواہے اس کے بارے میں زین بن منیر(یکے از شارحینِ بخاری)نے لکھا ہے کہ یہ فعل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے ثابت نہیں اور اگر مستحب ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ بکثرت واقعات میں ثابت ہوتا۔[5] غرض مرنے سے پہلے اپنی قبر تیار کرلینا مستحب نہیں اگر ایسا مستحب ہوتا تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہوتا۔[6] الاختیارات العلمیہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ میں لکھا ہے کہ کسی کیلئے یہ مستحب نہیں ہے کہ وہ اپنی قبر کھود کر رکھ لے۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا نہیں کیا اور پھر کوئی [1] بخاری مع الفتح ۳؍۱۴۲ [2] فتح الباری۳؍۱۴۲ [3] بخاری مع الفتح۳؍۱۴۲ [4] بخاری مع الفتح۳؍۱۴۲ [5] فتح الباری۳؍۱۴۴ [6] احکام الجنائز وبدعہا للالبانی،ص:۲۵۷۔۱۶۱۔۱۶۰ نقلاً عن الاختیارات العلمیہ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ