کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 48
قَمِیْصٌ وَلَا عَمَامَۃٌ))[1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید سحولی(یمنی)کپڑوں میں کفن دیئے گئے اور ان میں قمیص اور پگڑی شامل نہیں تھی۔‘‘ اکثر صحابہ و تابعین،عام محدّثین اور امام شافعی و احمد سمیت جمہوراہل ِعلم کا تویہی مسلک ہے البتہ امام مالک اور احناف کے نزدیک کفن میں قمیص بھی ہونی چاہیئے اور امام مالک کے نزدیک عمامہ بھی،اُن کا کہنا ہے کہ مذکورہ حدیث میں اگرچہ صرف تین کپڑوں کا ہی ذکر ہے اور یہ جائز بھی ہے لیکن بعض دیگر روایات میں قمیص کا بھی ذکر ہے اور امام مالک کے نزدیک عمامہ بھی مستحب ہے،لیکن جمہور کے نزدیک وہ روایات متکلّم فیہ ہیں لہٰذا راجح یہی ہے جو بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث سے ثابت ہے۔[2] عورت کے کفن کے کپڑ ے: عورت کا کفن بھی یہی ہے کیونکہ کسی صحیح حدیث سے مردوزن کے کفن کا فرق ثابت نہیں البتہ مسند احمد کی ایک متکلّم فیہ روایت میں اوڑھنی اور ایک دوسری بڑی چادر کا ذکر بھی ہے جس سے احناف کے نزدیک سینہ بند مراد ہے یوں یہ پانچ کپڑے ہو جاتے ہیں۔[3] بوقتِ مجبوری کم کپڑ ے: مرد کے لیے تین اور عورت کے لیے پانچ کپڑے ہونا عام حالات میں ہے جبکہ مجبوری کے وقت اس سے کم بھی جائز ہے مثلاََ: 1۔ میّت کو صرف ایک ہی چادر میں کفن دینا جیسا کہ صحیح بخاری اور دیگر کتب میں حضرت [1] بخاری مع الفتح ۳؍۱۴۰،الفتح الربانی ۷؍۱۷۳،ابوداؤد مع العون ۸؍۴۲۶۔۴۲۵،ترمذی مع التحفہ ۴؍۷۴ [2] فتح الباری،تحفۃ الاحوذی،عون المعبود،نیل الاوطار۲؍۴؍۳۷۔۳۸،الفتح الربانی۷؍۱۷۸۔۱۷۶ [3] الفتح الربانی۷؍۱۷۵۔۱۷۶۔۱۷۸،احکام الجنائز للالبانی،ص:۶۵