کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 46
’’ ہم میّت کو غسل دیتے تھے اور ہم میں سے بعض تو غسل کر لیتے اور بعض غسل نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کفن کاکپڑا: میّت کو غسل دینے کے بعد کفن دیا جاتا ہے جو کہ واجبات میں سے ہے اور کفن کے کپڑے کا عمدہ ہونا مستحب ہے جیسا کہ صحیح مسلم،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ اور مسند احمد میں ارشادِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اِذَا کَفَّنَ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ فَلْیُحْسِنْ کَفْنَہٗ))[1] ’’تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اُسے چاہیئے کہ اچھا کفن دے۔‘‘ واضح رہے کہ عمدہ سے مراد صاف ستھرا ہے قیمتی نہیں کیونکہ قیمتی کپڑے میں کفن دینے سے کیا حاصل ہوگا؟ وہ تو بہرحال گل سٹر ہی جائے گا۔یہی بات بعض ضعیف روایات میں بھی آئی ہے۔[2] کفن کے کپڑوں کا بہت قیمتی تو کیانیاہونا بھی کوئی ضروری نہیں،دھویا ہواصاف ستھرا مستعمل کپڑا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ صحاح و سنن کی حدیث ابھی قریب ہی گزری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے کفن میں اپنی(تہبندکے طور پر)مستعمل چادر دی تھی اور مستعمل کپڑے سے کفن دینے کے جواز پر تمام آئمہ و فقہاء کا اجماع ہے۔صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ وفات کے قریب ایک کپڑے کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ((اِغْسِلُوْا ثَوْبِیْ ھَذَا وَزِیْدُوْاَعَلَیْہِ ثَوْبَیْنِ فَکَفِّنُوْنِیْ فِیْھَا)) [1] مشکوٰۃ ۱؍۵۱۸،الفتح الربانی ۷؍۱۷۰،احکام الجنائز للالبانی،ص:۵۸،المنتقیٰ مع النیل ۲؍۴؍۳۵ [2] انظر المشکوٰۃ ۱؍۵۱۸