کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 45
اِس حکم کو اگر اُس شخص کے ساتھ خاص ماننے کا دعویٰ کیا جائے توپھر اسکی دلیل چاہیئے۔ غسل دینے والے پر غسل کا استحباب: وہ شخص جو کسی میّت کو غسل دے اسکے لیے فرض و واجب تو نہیں البتہ مستحب یہ ہے کہ بعد میں وہ خود بھی غسل کرلے کیونکہ ابوداؤد،ترمذی،ابن حبان اور مسند احمد میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ((مَنْ غَسَلَ مَیِّتاً فَلْیَغْتَسِلْ وَمَنْ حَمَلَہٗ فَلْیَتَوَضَّأْ))[1] ’’جو شخص کسی میّت کو غسل دے اُسے چاہیئے کہ بعد میں خود بھی غسل کرے اور میّت کو اٹھانے والا وضوء کرلے۔‘‘ اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شائد غسل دینے والے پر غسل کرنا واجب ہے لیکن اسکا قائل کوئی نہیں اور اس حدیث کے حکم کو وجوب سے استحباب کی طرف لانے والی یہ دو احادیث ہیں: 1۔ پہلی مستدرک حاکم و بیہقی میں ہے جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ،فَاِنَّ مَیِّتَکُمْ لَیْسَ بِنَجَسٍ فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) ’’ تم پر میّت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا ضروری نہیں کیونکہ تمہاری وہ میّت کوئی نجس تو نہیں تھی،تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ دھولو۔‘‘ 2۔ دوسری حدیث دارقطنی اور تاریخ بغداد میں ہے جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ((کُنَّا نُغْسِلُ الْمَیِّتَ فَمِنَّا مَنْ یَّغْتَسِلُ وَمِنَّا مَنْ لَّا یَغْتَسِلُ))[2] [1] ابوداؤد مع العون ۸؍۴۳۸،ترمذی مع التحفہ ۴؍۷۰،احکام الجنائز للالبانی،ص:۵۳ وحسّنہٗ [2] کلاھمافی احکام الجنائز للالبانی،ص:۵۳۔۵۴