کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 44
میت کے ناخن نہ تراشے جائیں اور نہ ہی کوئی زائد بال صاف کئے جائیں اور غسل دینے لیکن کفنانے سے پہلے ہی اگر میت کے پیٹ سے کوئی فضلہ وغیرہ نکلے تو احناف،شافعیہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک صرف صفائی کر دی جائے دوبارہ غسل کرانے کی ضرورت نہیں۔بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ دوبارہ غسل دیا جائے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ صرف وضوء دوبارہ کرادیا جائے۔[1] مُحرم کا غسل: کوئی شخص سفرِ حج میں احرام کی حالت میں وفات پا جائے تو اُسے غسل دیا جائے مگر خوشبو نہ لگائی جائے اور نہ ہی اسکا سَر ڈھانپا جائے بلکہ اُسے احرام کے اُنہی دو کپڑوں میں کفن دے دیا جائے کیونکہ صحیح بخاری و مسلم،سنن اربعہ،مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں مذکور ہے کہ میدانِ عرفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کے دوران ایک شخص اپنی سواری سے گِرا تو گردن ٹوٹ جانے سے وہ فوت ہوگیا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے بیری کے پتوں والے پانی سے غسل دو اور اسے اسکے(احرام والے)دو کپڑوں میں ہی کفن دے دو اور اسے کوئی خوشبو وغیرہ نہ لگاؤ اور نہ ہی اس کے سَر کو ڈھانپو۔‘‘ ((فَاِنَّہٗ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّیاً))[2] ’’ یہ قیامت کے دن لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔‘‘ احناف و مالکیہ کے نزدیک اُسے بھی عام میّت کی طرح ہی غسل و کفن دیا جائے گا،ان کے نزدیک اسکا احرام موت کے ساتھ ہی ختم ہوگیا مگر مذکور ہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اسکے برعکس ہے۔[3] [1] فقہ السنہ ۱۰؍۵۱۵۔۵۱۶،فتح القدیر شرح ہدایہ۱؍۴۴۷۔۴۵۱،المغنی ۲؍۳۷۸۔۳۸۶ طبع مصر،الفقہ علیٰ المذاھب الاربعہ ۱؍۵۰۹۔۵۱۰،المجموع ۵؍۲۶ [2] بخاری مع الفتح ۳؍۱۳۶،نیل الاوطار ۲؍۴؍۴۰،الفتح الربانی ۷؍۸۸۔۱۹۰ [3] تفصیل کےلیےدیکھیے فتح الباری ۳؍۳۶۔۱۳۸،بذل المجہود ۱۴؍۲۰۹۔۲۱۰ طبع سوم