کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 42
صحاح و سنن میں مذکور ان احادیث کا مجموعی مفاد یہ ہے کہ غسل میّت کے جسم کے دائیں اعضاء سے اور وضوء کی جگہوں سے شروع کرنا چاہیئے اور جس پانی سے غسل دیا جائے اُس میں بیری کے پتے ملالییٔ جائیں،تین،پانچ اور بوقتِ ضرورت اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دیا جائے مگر طاق مرتبہ ہو جیسا کہ مذکورہ حدیث کے الفاظ تین یاپانچ سے پتہ چلتا ہے اوربخاری شریف میں ہی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں بھی یہی مذکور ہے۔[1] آخری غسل میں کافور کا استعمال کیا جائے۔عورت کے سَر کے بالوں کو کھول کر دھویا جائے انہیں کنگھا کیا جائے اور تین چوٹیاں بناکر انہیں سر کے پیچھے کمر پر ڈال دیا جائے۔ مالکیہ،شافعیہ،حنابلہ اور تمام محدّثینِ کرام کا مسلک تو یہی ہے جبکہ احناف کے نزدیک عورت کے بالوں کو دونوں کندھوں کے اوپر سے سینے پر ڈال دینا مستحب ہے۔[2] انکا کہنا ہے کہ چوٹیاں بنانا اور پیچھے ڈال دینا حضرت ام عطیّہ رضی اللہ عنہا کا اپنا عمل ہے جس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے کا حکم فرمایا تھا اور دوسرے آئمہ وفقہا ء اور محدّثین کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس بات کی اطلاع تھی جسکا ثبوت سنن سعید بن منصور کی حدیث میں ہے جس میں حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بالوں کی چوٹیاں بنادیں اور صحیح ابن حبان میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین چوٹیاں بنانے کا حکم فرمایا تھا،لہذا بات واضح ہوگئی کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے عمل کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف یہ کہ خبر تھی بلکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہی ہواتھا۔[3] غسلِ میت کے سلسلہ میں بعض فقہی تشریحات: آئمہ وفقہا ء نے طریقۂ غسل کی مزید وضاحت کی ہے کہ پانی کو نیم گرم کر لیا جائے اور بیری کے پتے ڈالنے کی سنت پوری کرنے کے ساتھ ہی صابن سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے، [1] بخاری مع الفتح ۳؍۱۳۰ [2] بذل المجہود ۱۴؍۱۱۲۔۱۱۳ [3] فتح الباری ۳؍۱۳۴،تحفۃ الاحوذی ۴؍۶۶،نیل الاوطار ۲؍۴؍۳۲،الفتح الربانی۷؍۱۶۸