کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 41
انہیں قبر میں رکھا اور لحد کو اینٹوں سے بند کیا پھر قبر سے باہر آکر مٹی ڈال دی اور کہا: ((یَا بَنِیْ آدَمَ ! ھَذِہٖ سُنَّتُکُمْ))[1] ’’اے بنی آدم! تمہارے لییٔ(میّت کو دفنانے کا)یہ طریقہ ہے۔‘‘ غسل ِمیّت کا مسنون طریقہ: میّت کو غسل دینے کا طریقہ بتانے والی سب سے صحیح اور مشہور حدیث حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جس پر تمام آئمہ کا عمل ہے،چنانچہ صحیح بخاری و مسلم،سنن اربعہ اور مسند احمد وبیہقی میں وہ فرماتی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو غسل دے رہی تھیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین،پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ غسل دو اور آخری غسل میں تھوڑا سا کافور بھی مِلا لو اور جب تم غسل سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دو۔‘‘ چنانچہ ہم نے غسل سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع پہنچائی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنی باندھنے والی چادر پھینکی اور فرمایا:’’اس سے اس کا جسم لپیٹ دو(یعنی اس کا کفن بنادو)۔‘‘ دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ’’ جسم کے دائیں اعضاء سے اور وضوء کی جگہوں سے غسل دینا شروع کرو۔‘‘ اور حضرت ام عطیّہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے سر میں کنگھی کی اور بالوں کی تین چوٹیاں بنادیں،ان میں سے دو سَر کے دائیں اور بائیں حصہ کے بالوں کی تھیں اور ایک پیشانی کے بالوں کی،اور بخاری شریف ہی کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سَر کے بالوں کی چوٹیاں بنا کروہ ہم نے پیچھے کمر پر ڈال دیں۔[2] [1] نیل الاوطار ۲؍۴؍۲۵،مصنّف عبدالرزاق۳؍۴۰۰،الفتح الربانی۷؍۱۵۴ [2] بخاری مع الفتح ۳؍۱۳۵۔۱۳۴،ابوداؤد مع العون ۸؍۴۱۶۔۴۲۲،ترمذی مع تحفہ الاحوذی۴؍۶۴۔۶۷،نیل الاوطار۲؍۴؍۳۱