کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 40
مسلمانوں والی کوئی نشانی بھی نہ پائی جاتی ہو تو اس کا(غسل نہیں اور)جنازہ بھی نہیں پڑھا جائے گا،ایسے ہی اگر کسی حادثہ کا شکار ہونے والے شخص کے جسم کے صرف بعض اعضاء ہی ملیں تو اُس پر غسل و جنازہ نہیں،ہاں اگر جسم کا نصف سے زیادہ حصہ یکجا مل جائے تو اس کو غسل دیا جائے گااور اس کاجنازہ پڑھا جائیگا اور اگر جسم کا اوپر والا آدھا حصہ سَر سمیت ملے تو(بالاولیٰ)اسکا غسل وجنازہ ہوگا۔[1] جبکہ شافعیہ کے نزدیک محض اعضائے جسم کے ملنے پر بھی غسل و جنازہ ہے اور اس سلسلہ میں بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے واقعات موجود ہیں۔[2] غسل ِ میّت اور ہماری حالت: عام میت کو غسل دینے کے سلسلہ میں یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ جو اُسکا سب سے زیادہ قریبی ہو وہ غسل دے لیکن ہمارا معاملہ بڑا ہی عجیب ہے کہ جزع وفزع،رونے دھونے،نوحہ و بَین اور دیگر غیر اسلامی رسوم کے ذریعے ہم مرنے والے سے اپنی انتہائی محبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب غسل دینے کا موقع آتا ہے تو پھر مَرد کی میّت کیلئے ’’میاں جی‘‘ اور عورت کیلئے میاں جی کی اہلیہ’’بی بی جی‘‘ کے محتاج ہوجاتے ہیں اور اب تو مسلمان ملکوں میں ایسے ادارے بھی قائم ہو گئے ہیں جو معاوضہ لے کر میّت کے غسل کی ذمہ داری نبھاجاتے ہیں،جبکہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اس فریضہ کو خود ادا تو کرنا چاہتے ہیں مگر اس کے طریقہ سے ناواقف ہوتے ہیں حالانکہ یہ غسل اور کفن و دفن ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہے جیسا کہ زوائد مسند احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے موقوفاََ اور مصنف عبدالرزاق و نصب الرایہ میں مرفوعاََ مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے بعد فرشتوں نے انہیں غسل دیا،کفنایا،خوشبو لگائی،لحدوالی قبر کھودی،انکی نمازِجنازہ پڑھی پھر انکی قبر میں داخل ہوکر [1] فتخ القدیر۱؍۴۵۲ [2] المجموع ۵؍۲۱۰