کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 39
ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کیوں کر لیا تھا؟ اگر دونوں جہانوں میں بیوی ہونے والی روایت صحیح ہوتی تو وہ یہ نکاح نہ کرتے،کیونکہ خالہ اور بھانجی کو بیک وقت نکاح میں لینا حرام ہے۔[1] مرنے والی کے وفات کے ساتھ ہی اپنے شوہر کے نکاح سے نکل جانے والی بات معروف ہے جبکہ قرآن کی رو سے یہ درست نہیں بلکہ قرآنِ کریم نے اسے زوجہ(بیوی)ہی قرار دیا ہے۔چنانچہ سورۂ نسآء،آیت:۱۲ میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿لَکُمْ نِصْفُ مَاتَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ﴾ ’’تمہارے لیے تمہاری بیویوں کے ترکہ میں سے آدھا ہے بشرطیکہ انکی اولاد نہ ہو۔‘‘ جانبین کے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ جمہور کے دلائل زیادہ قوی ہیں لہٰذا انتقال کے بعد بھی بیوی کی میت اپنے شوہر کیلئے غیر محرم نہیں ہوجاتی،اُسکا اُسے دیکھنا یا چُھونا اور غسل دینا جائز ہے۔ غیر معروف لاش یا چند ٹکڑوں کا حکم: اگر کوئی اپنے گھر یا ہسپتال میں وفات پا جائے تو وہ جانا پہچانا ہوتا ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کی لاش کسی ویران جگہ پر پائی گئی اور قُرب و جوار کے لوگوں میں سے اُسے جانتا بھی کوئی نہ ہو اور اُس لاوارث کے بارے میں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ یہ کسی مسلمان کی نعش ہے یا کافر کی،ایسی صورتِ حال میں کیاکیا جائے؟ اس سوال کا جواب فقہ حنفی کی معتبر کتاب ’’ہدایہ‘‘ کی شرح فتح القدیر میں علّامہ ابن ہُمام نے یہ لکھا ہے کہ وہ لاش مسلمانوں کے دیہات میں سے کسی گاؤں میں پائی جائے اور اس پر مسلمانوں والی کچھ علامات اور نشانیاں بھی پائی جائیں تو اُسے غسل دے کر اُسکی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اگر وہ کہیں کفار کی آبادیوں(کے قُرب وجوار)میں پائی گئی ہو اور اس میں [1] تفصیل کیلئے دیکھیئے احکام الجنائز للمبارکپوری ص:۲۴