کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 37
(۱)حضرت حسن بصری۔(۲)حضرت حماد بن ابی سلیمان۔(۳)حضرت ابوالشعثاء جابر بن زید۔(۴)حضرت سلیمان بن موسیٰ۔(۵)حضرت قسامہ بن زید۔(۶)حضرت عطاء بن ابی رباح۔[1](۷)حضرت علقمہ۔(۸)حضرت ابولامہ رحمہم اللہ [2] قائلینِ جواز آئمہ و جمہور اہلِ علم کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ انتہائی قریبی ہوتا ہے اور زندگی بھر ان میں جو باہمی قُرب و محبت رہی ہوتی ہے اُسی کے نتیجہ میں جس قدر عمدگی سے وہ دونوں ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں یہ کسی دوسرے سے ممکن نہیں ہوسکتا۔ مانعین کے دلائل اور انکا جائزہ: بیوی کے اپنے شوہر کو غسل دینے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے تاہم امام ابو حنیفہ،سفیان ثوری اور ایک غیر مشہور روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک موت واقع ہوجانے کے بعد شوہر کا اپنی بیوی کو غسل دینا جائز نہیں۔جبکہ مشہور روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ سمیت تین آئمہ جواز کے قائل ہیں اور صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ عدمِ جواز کی طرف گئے ہیں اور بیوی کے اپنے شوہر کوغسل دینے کے سلسلہ میں تو امام صاحب بھی جوازکے ہی قائل ہیں۔ احناف کا کہنا ہے کہ شوہر کے وفات پاجانے سے عدّت کے(چارماہ دس)دن پورے ہونے تک بیوی اسکے لیے محرم ہوتی اور اس کی زوجیت میں رہتی ہے لہٰذا وہ شوہر کو غسل دے سکتی ہے اس کے برعکس بیوی کا انتقال ہوجانے کے بعد وہ اپنے شوہر کیلئے محرم نہیں رہتی لہٰذا اس کا اُس کی طرف دیکھنا اور اُسے چُھونا تک جائز نہیں۔[3] جواز پر دلالت کرنے والی احادیث و آثارکی تأویل کرتے ہوئے یہ جواب دیا جاتا [1] المحلّٰی ۵؍۱۷۵،مصنف عبدالرزاق ۳؍۴۰۹تا ۴۱۱ [2] بیہقی ۳؍۳۹۷ [3] الفتح الربانی ۷؍۱۵۷،المغنی ۲؍۴۳۶،وانظرردالشوکانی علیہ فی النیل ۲؍۴؍۲۷،و کذٰلک رد النووی فی المجموع شرح المہذب ۵؍۱۱۴ و۵؍۱۱۹