کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 36
مرجانے کے بعد غسل دے سکتا ہے اور وہ اپنے شوہر کو۔[1] 2۔ اِسی طرح مسند شافعی،سنن دارقطنی،مستدرک حاکم اور بیہقی میں مذکور ہے کہ جب حضرت فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو انکے شوہرِ نامدار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُنہیں غُسل دیاتھا۔[2] امام ابن قدامہ لکھتے ہیں کہ یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں معروف تھی مگر کسی نے ان پر نکیر نہیں کی لہٰذا یہ ان سب کی طرف سے اس کے جواز پر اجماع ہوا۔[3] 3۔ مستدرک حاکم وبیہقی میں ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما(زوجۂ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ)فرماتی ہیں: ((غَسَّلْتُ اَنَا وَعَلِیٌّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم))[4] ’’جب حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں نے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں غسل دیاتھا۔‘‘ 4۔ حضرت عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو غسل دیا۔[5] 5۔ حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:(اَلرَّجُلُ اَحَقُّ بِغُسْلِ اِمْرَأَتِہٖ)’’مرد اپنی بیوہ کو غسل دینے کا زیادہ حقدار ہے۔‘‘ [6] اسی طرح تابعین کرام میں سے بھی متعدد اہل علم کے اس جواز کے فتاویٰ موجود ہیں مثلاً: [1] النیل ۲؍۴؍۲۷ [2] حسنہ الشوکانی فی النیل ۲؍۴؍۲۷و الحافظ فی التلحیض ۱۷۰،والالبانی فی الارواء ۳؍۱۶۲ مصنّف عبدالرزاق ۳؍۱۶۳ [3] المغنی ۲؍۴۳۶ [4] ا لمغنی ۲؍۴۳۶،ارواء الغلیل ۳؍۱۶۲ و حسنہ الالبانی [5] بیہقی۳؍۴۰۹،المحلّٰی۵؍۱۷۴ [6] بیہقی ۳ ؍۴۰۹،مصنف عبدالرزاق۳؍۴۰۹،المحلّٰی ۵؍۱۷۴