کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 34
مشہور حنفی عالم علّامہ ابنِ ہُمام لکھتے ہیں کہ میت کے غسل پر اجرت لینا منع ہے۔[1] بیوی کا خاوند کو اور خاوند کا بیوی کو غسل دینا: عام طریقہ تو یہی ہے کہ اگر کوئی مردوفات پا جائے تو اُسے مرد ہی غسل دیتے ہیں اور عورت کو عورتیں،لیکن میاں بیوی کا معاملہ الگ ہے کسی جگہ مسائلِ دین سے ناوافقیت کی بناء پر ماحول اِسکی اجازت نہ دے رہا ہو یا پھر شرم و حیاء کا اپنا بنایا ہوا پیمانہ اسکے مانع آجائے تو الگ بات ہے اور ویسے بھی یہ کوئی واجب تو نہیں البتہ اس بات کے جائز ہونے پر تمام صحابہ و تابعین اور آئمہ و فقہا کا اتفاق ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی وفات پر اُسے غسل دے سکتی ہے۔ بیوی کے اپنے شوہر کو غسل دینے کے د لائلِ جواز: 1۔ ابوداؤد،بیہقی،مستدرک حاکم اور مسند احمد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مروی ہے کہ وہ فرمایا کرتی تھیں: ((لَوْ اِسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِمَااسْتَدْ بَرْتُ،مَا غَسَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ اِِلاَّ نِسَاؤُہٗ))[2] ’’جو بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی ہے اگر پہلے معلوم ہوجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔‘‘ 2۔ اِسی طرح متعدد آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بات کی تائید ہوتی ہے مثلاََ یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے خود انہیں غسل دیا تھا۔[3] 3۔ حضرت جابربن زید رضی اللہ عنہ نے وصیّت فرمائی تھی کہ انکی بیوی انہیں غسل دے۔ [1] فتح القدیرشرح ہدایہ ۱؍۴۵۲ طبع دار صادر بیروت [2] ابوداؤد مع العون ۸؍۴۱۵،الفتح الربانی ۷؍۱۵۷،حسنہ الالبانی فی الارواء ۳؍۱۶۳۔۱۶۲ [3] نیل الاوطار ۱؍۱؍۲۳۹ و ۳؍۴؍۲۷،الفتح الربانی ۷؍۱۵۷،المجموع شرح المہذب ۵؍۱۹۰