کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 33
غسلِ میّت یا صرف تیمّم؟: اگر کوئی عورت کسی ایسی جگہ وفات پا جائے جہاں دوسری کوئی عورت نہ ہو جو اُسے غسل دے نہ اسکاکوئی محرم رشتہ دار وہاں موجود ہو اور نہ ہی اسکا شوہر ہو تو ایسی حالت میں اُس عورت کو غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ محض تیمم کرایا جائے گا۔اِسی طرح اگر کوئی مردفوت ہو جائے اور وہاں عورتوں کے سوا کوئی نہ ہو تو اس مرد کو بھی غسل کی بجائے صرف تیمّم ہی کرایا جائے گا چنانچہ مراسیل ابی داؤد میں حضرت مکحول رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی عورت مر جائے اور وہاں مردوں کے سوا کوئی(عورت)نہ ہو اور جب کوئی مرد فوت ہو جائے اور وہاں عورتوں کے سوا کوئی(مرد)نہ ہو تو ایسے مرد اور عورت کوتیمم کرایا جائے۔(اور جنازہ پڑھ کر دفن کردیا جائے وہ دونوں ایسے شخص کی مانند ہیں جس کو وضوء و غسل کے لیے پانی نہ ملے تو وہ تیمم کر لیتا ہے)۔[1] حضرت سعید بن مسیّب،امام نخعی وحمّاد،ابو حنیفہ و مالک،احمد اور تمام علمائے حدیث کے نزدیک اس حدیث کی بناء پر یہی تیمم ان کے لیے غسل کے قائمقام ہو جائے گا لیکن امام حسن بصری،اسحاق بن راہو یہ اور امام شافعی کے نزدیک مرسل حدیث قابلِ حجت نہیں ہوتی لہٰذا انکا کہنا ہے کہ ایسے مردیا عورت کو کپڑوں سمیت غسل دے دیا جائے گا اور غسل دینے والا مرد ہو یا عورت وہ اپنے ہاتھوں کو بھی کپڑے کے ٹکڑے سے لپیٹ کر غسل دیں گے۔[2] ولدِزنا کو بھی وجوباََ غسل دیا جائے گا اور اسکی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی،جمہور علماء و فقہاء اور آئمہ کا یہی مسلک ہے۔[3] [1] مراسیل ابی داؤد بحوالہ المغنی لابن قدامہ ۲؍۴۳۸،فقہ السنہ ۱؍۵۱۶ [2] المغنی ۲؍۳۷۔۴۳۸ و کتاب الجنائز[علّامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری صاحب تحفۃ الاحوذی] ص ۲۳،فقہ السنہ ۱؍۵۱۶ المقنع ۱؍۲۷۲،المجموع شرح المہذب للنووی ۵؍۱۱۵ [3] الفتح الربانی ۷؍۱۶۳ عن المجموع شرح المہذّب للنووی