کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 32
جبکہ مستدرک حاکم(۱؍۳۵۴،۳۶۲)اور سنن کبریٰ بیہقی(۳؍۳۹۵)میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((مَنْ غَسَلَ مُسْلِماً فَکَتَمَ عَلَیِْہِ غَفَرَ لَہٗ اللّٰہُ اَرْبَعِیْنَ مَرَّۃٍ.....)) ’’جس نے کسی مسلمان میّت کو غسل دیا اور اسکی پردہ پوشی کی اسے اللہ تعالیٰ چالیس مرتبہ بخشے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح مسلم کی شرط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے اور علّامہ ذہبی والبانی نے ان سے موافقت کی ہے۔ جبکہ معجم طبرانی کبیر میں((اربعین مرۃ))کی بجائے((اربعین کبیرۃ))ہے کہ’’اسکے چالیس کبیرہ گناہ بخش دیتا ہے۔‘‘ اس حدیث کی سند کے بارے میں امام منذری نے الترغیب والترغیب(۴؍۱۷۱)میں اور امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں کہا ہے کہ اس کے راوی صحیح کے قابلِ حجت راوی ہیں اور حافظ ابن حجر نے الدرایۃ(۱۴۰)میں اس کی سند کو قوّی قرار دیا ہے۔[1] بچے کی میّت کو غسل دینا: چھوٹی عمر کے لڑکے کو عورتوں کے اور لڑکی کو مردوں کے غسل دینے کے جواز پر تو سب آئمہ وفقہا ء کا اتفاق ہے لیکن چھوٹی عمر کی تعیین میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں،امام احمد کے نزدیک سات سال،امام اوزاعی کے نزدیک چار پانچ سال اور حضرت حسن بصری کے نزدیک ڈھائی تین سال ہے اور احناف کے نزدیک عورتیں صرف ایسے لڑکے کو غسل دے سکتی ہیں جو ابھی بات نہ کرنے لگا ہو۔[2] [1] الاجر فی عدۃ احادیث انظر ھافی الجنائزللالبانی ۵۱۔۵۲  دیکھیے:احکام الجنائز للالبانی،ص ۵۱ [2] المغنی لابن قدامہ ۲؍۴۳۸،المجموع ۵؍۱۲۰،المقنع ۱؍۲۷۲