کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 31
یہ بخاری شریف کے الفاظ ہیں جبکہ مسند احمد میں ہے: ((لَا تُغْسِلُوْھُمْ فَاِنَّ کُلَّ جُرْحٍ أَوْ کُلَّ دَمٍ یَفُوْحُ مِسْکاً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))[1] ’’انہیں غسل نہ دو،اسلئے کہ قیامت کے دن ان کے زخم یا ان کے خون کستوری کی خوشبو جیسے مہکیں گے‘‘..... الخ اِس اور ایسی ہی دیگر احادیث کی بنا پر تمام اہلِ علم اور چاروں آئمہ شہید کو غسل نہ دینے کے قائل ہیں،البتہ جنابت یا حیض والے شہید کے غسل میں اکثر آئمہ کی رائے تو غسل نہ دینے کی ہی ہے اور دلائل کے عموم کی وجہ سے امام شوکانی ؒنے اسے ہی حق قراد دیا ہے اور آئمہ میں سے امام شافعی،مالک،ابو یوسف اور محمد کے نزدیک تو غسل نہیں لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک غسل دیا جائیگا۔[2] غسلِ میّت کا حقدار: میت کو غسل وہ دے جس کا تعلق میت کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی ہو،ہاں اگر وہ غسل دینے کا طریقہ نہ جانتا ہو تو کوئی بھی مسلمان غسل دے سکتا ہے بشرطیکہ غسل دینے والا پرہیز گار اور امانت دار ہو۔یہ بات مسنداحمد اور طبرانی اوسط میں مذکور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث سے معلوم ہوتی ہے اور اُسی حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ جس شخص نے کسی میّت کو غسل دیا اور امانت داری و حکمِ شریعت کے مطابق غُسل دیا ور اگر اُسے میّت سے کوئی ناپسندیدہ بات معلوم ہوئی تو اُسے ظاہر نہ کیا تووہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے اُس کی ماں نے آج ہی اُسے جنم دیا ہو۔[3] [1] الفتح الربانی ۷؍۱۵۹،ابو داؤد مع العون ۸؍۴۱۲،۸۔۴۰۷،ترمذی مع التحفہ۴؍۱۲۶ [2] نیل الاوطار ۲؍۴؍۲۹۔۳۰ [3] الفتح الربانی ۷؍۱۵۳،نیل الاوطار ۲؍۴؍۲۵،وقد قواہ الحافظ فی الدرایۃ۱۴۰ وفی سند ہ جابر الجعفی وقدثبت(