کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 30
’’جنازہ لے جانے میں جلدی کرو،کیونکہ وہ نیک آدمی کاہوگا تو اسے تم اجرونعمت کی طرف لیجاتے ہو اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم شرّسے اپنی گردن خلاصی کراتے ہو۔‘‘ میت کو غسل دینا: میت کی تجہیزوتکفین اور جنازہ و تدفین کا پہلا مرحلہ اُسے غسل دینا ہوتا ہے،اگر کوئی مسلمان فوت ہوجائے تو سوائے بعض مالکی فقہاء کے سب کے نزدیک اُسے غسل دینا ’’فرض کفایہ‘‘ ہے اور امام نووی،ابن قدامہ اور فتح القدیر شرح ہدایہ کے مؤلف امام ابن الہمُام نے اس پر اجماع ذکرکیا ہے اور شارح بخاری حافظ ابن حجرنے بعض مالکیہ کا تذکرہ کیا ہے جو غسلِ میّت کو سنت قرار دیتے ہیں،اور امام قرطبی نے اپنی شرح مسلم میں غسل ِمیت کے سنت ہونے کو ہی ترجیح دی ہے لیکن جمہور اہل علم و جوب کے قائل ہیں۔[1] شہید کا حکم: جو مسلمان کفارومشرکین سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائیں انہیں تو غُسل دیئے بغیر ہی انکے خون آلود کپڑوں سمیت دفن کیا جائے گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل دینے سے منع کیا ہے اور اسکی وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔چنانچہ صحیح بخاری،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،بیہقی اور مسند احمد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غزوۂ احد میں شہید ہوئے،انکے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((اِدْفِنُوْھُمْ فِی دِمَائِہِمْ یَعْنِیْ یَوْمَ اُحُدٍ۔وَلَمْ یُغْسِلْھُمْ))[2] ’’ان شہداء اُحدکو ان کے خون آلود کپڑوں میں ہی دفن کردو،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل بھی نہیں دیا تھا۔‘‘ [1] تفصیل کیلئے دیکھیئے فتح الباری ۳؍۲۵۔۱۲۶،الفتح الربانی ۷؍۱۵۵،فتح القدیر شرح ہدایہ ۱؍۴۴۷ [2] بخاری مع الفتح ۳؍۲۱۲