کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 29
ایسا نہیں تو بھی اسے اسکے اصل ٹھکانے کی طرف پہنچا دینا اور اس فریضہ سے جلد سبکدوش ہوجانا ہی مناسب ہے اور اس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے،چنانچہ ابوداؤد اور طبرانی میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی موت کے واقعہ کے ضمن میں ہے: ((۔۔۔۔وَعَجِّلُوْا فَاِنَّہٗ لَا یَنْبَغِیْ لِجِیْفَۃِ مُسْلِمٍ اَنْ تُحْبَسَ بَیْنَ ظَھْرَانَیْ اَھْلِہٖ))[1] ’’تجہیزوتکفین میں جلدی کرو کیونکہ کسی مسلمان کی میت کو یہ لائق نہیں کی اُسے اسکے گھر والے اپنے مابین روک رکھیں ‘‘۔ اسی طرح ترمذی،ابن ماجہ،ابن حبان،مسند احمد اور مستدرک حاکم میں ہے: ((یَاعَلِیُّ ! ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْھَا:اَلصَّلوٰۃُ اِذَا اَتَتْ وَالْجَنَازَۃُ اِذَا حَضَرَتْ وَالْاَیِّمُ اِذَا وَجَدْتَّ لَھَا کُفْؤاً))[2] ’’اے علی!تین کاموں کے کرنے میں تاخیرنہ کرو(۱)نماز کی ادائیگی میں جب اسکا وقت ہوجائے(۲)نمازِجنازہ پڑھنے میں جبکہ موت واقع ہوجائے(۳)جب بیوہ(یانوجوان کنواری)کے لیے مناسب رشتہ مل جائے تو اسکی شادی کرنے میں۔‘‘ ان سب سے بڑھ کر صحیح بخاری و مسلم اور سننِ اربعہ میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اَسْرِعُوا بِالْجَنَازَۃَ،فَاِنْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُوْنَھَا اِلَیْہِ،وَاِنْ یَکُ غَیْرَ ذٰلِکَ فَشَرٌّ تَضَعُوْنَہٗ عَنْ رِقَابِکُمْ))[3] [1] ابوداؤد مع العون ۸؍۴۳۵ وقد تکلّم علیہ الشوکانی جرحاََ وتعدیلاََ فی النیل ۲؍۴؍۲۲۔۲۳ و حسنہ الحافظ فی الفتح ۳؍۱۸۴ وضعفہ الالبانی فی المشکوٰۃ ۱؍۵۱۰ [2] الفتح الربانی ۷؍۹۹،النیل ۲؍۴؍۲۳،ترمذی مع التحفہ ۴؍۱۸۹۔۱۹۰،ضعفہ الالبانی فی تحقیق المشکوٰۃ ۱؍۱۹۲،و ضیعف الجامع ۲؍۳؍۶۰ [3] بخاری مع الفتح ۳؍۱۸۳،ترمذی مع التحفہ ۴؍۹۴۔۹۵