کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 28
((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہَ))[1] ’’اپنے قریبِ مرگ لوگوں کو لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللّٰہ پڑھنے کی تلقین کرو۔‘‘ کیونکہ ابوداؤد،ابن حبان،ترمذی،مسند احمد اور مستدرک حاکم میں ارشادِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،دَخَلَ الْجَنَّۃَ))[2] ’’جسکی زبان سے نکلنے والے آخری الفاظ لاَ اِلٰہَ اِلاَّاﷲُ ہوگئے وہ(بالآخر)جنت میں داخل ہوجائے گا۔‘‘ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریب ِمرگ کو اچھے طریقے سے کلمۂ توحید کی تلقین کی جائے لیکن اس کا اُس پر زور نہ دیا جائے تاکہ اپنی تکلیف و گھبراہٹ کی وجہ سے وہ دل میں اسے ناپسند نہ کرنے لگے یا اس کی زبان سے کوئی نازیبا بات(یعنی کلمے کا انکار)نہ نکل جائے۔[3] ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ ا ور مسند احمد میں ایسے شخص کے پاس سورۂ یٰسین کی تلاوت کرنے کا ذکر آتا ہے مگر محدّثین کے نزدیک وہ روایت ضعیف ہے۔[4] تجہیزوتکفین اور جنازہ و تدفین میں جلدی کرنا: حدیث شریف میں اس بات کی بڑی تاکید آئی ہے کہ جب کسی کی موت واقع ہوجائے تو اس کی تجہیزوتکفین اور جنازہ و تدفین میں جلدی کی جائے اس میں بلاوجہ تاخیرکرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اگرچہ بظاہر تو یہ جفا معلوم ہوتی ہے مگر درحقیقت یہ وفاء ہے مثلاََ مرنے والا نیک آدمی ہے تو اسے جلد از جلد اﷲکی نعمتوں کی طرف روانہ کردینا ہی اسکے لیے بہتر ہے،ہاں اگر وہ [1] مسلم مع النووی ۳؍۶؍۲۱۹،ابوداؤد مع العون ۸؍۳۸۶،ترمذی مع التحفہ ۴؍۵۲الفتح الربانی ۷؍۵۵ [2] ابوداؤد مع العون ۸؍۳۸۵،ترمذی مع التحفہ۴؍۵۵،الفتح الربانی ۷؍۵۷،مواردالظمآن حدیث(۷۱۹)و حسنہ الالبانی فی الارواء ۳؍۱۴۹۔۱۵۰واحکام الجنائز،ص:۱۰،۳۴ [3] شرح مسلم ۳؍۶؍۲۱۹ [4] ضعیف الجامع ۱؍۳۳۰،احکام الجنائزللالبانی ۱۱،وضعفہ فی الارواء ۳؍۵۰۔۱۵۲،تحقیق المشکوٰۃ ۱؍۵۰۹ ایضاََ،سبل السلام ۱؍۲؍۹۰۔۹۱ وقد حسنہٗ البعض کما فی الفتح الربانی ۷؍۶۳۔۶۴