کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 27
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم اُتِیَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَہٗ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ))[1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسے شخص کی میت لائی گئی جس نے لوہے کے آنکس(یعنی چوڑے تیر)سے خودکشی کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی۔‘‘ نسائی شریف کے الفاظ ہیں: ((أَمَّا أَنَا فَلَا اُصَلِّیْ عَلَیْہِ))[2] ’’اسکی نمازِ جنازہ میں تو نہیں پڑھوں گا۔‘‘ لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں فرمایا،یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز،امام اوزاعی اور امام احمد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی نمازِ جنازہ عام لوگ تو پڑھ لیں لیکن امام و حاکم،اہلِ علم و فضل اور مقتداء وپیشوا قسم کے اہلِ منصب لوگوں کو اسکی نمازِ جنازہ نہیں پڑھنی چاہیئے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی عبرت ہو۔علاّمہ عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ نے اسی مسلک کو ترجیح دی ہے۔[3] جبکہ دوسرے آئمہ و فقہا ء کے نزدیک اسکی بھی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللّٰہ کی تلقین: جو شخص قریبِ مرگ ہو،اس پر عالَمِ نزع یا جان کنی کا وقت ہو،اُسے کلمۂ توحید لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللّٰہ کی تلقین کرنا چاہیئے کیونکہ صحیح مسلم،سننِ اربعہ اور مسند احمد و بیہقی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] فتح الباری مع التعلیق ۳؍۲۲۷،مسلم بتحقیق محمد فواد عبدالباقی ۲؍۶۷۲ حدیث(۹۷۸)،ترمذی مع التحفہ ۴؍۱۷۷،ابوداؤد مع العون ۸؍۷۲۔۴۷۳،بلوغ المرام مع سبل السلام ۱؍۲؍۹۹ [2] حوالۂ سابقہ،ازفتح الباری،بلوغ المرام۔ [3] کتاب الجنائز للمبارکفوری ۶۹،۷۰،تحفۃ الاحوذی ۴؍۷۸ا،۱۷۹