کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 26
آپ کو نیزے چُھرے مارے گا۔‘‘ بخاری و مسلم کی ایک قدرے طویل حدیث میں زہر کھا کر اور پہاڑ سے گر کر خودکشی کرنے کا ذکر بھی آیا ہے اور اس حدیث کے آخر میں مسلم شریف کے الفاظ ہیں: ((فَہُوَ فِی نَارِ جَہَنَّمَ خَالِداً مُخَلِّداً فِیْہَا أَبَداً))[1] ’’ خود کشی کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ نارِجہنم میں رہے گا۔‘‘ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ اس سے مراد طویل مدت تک عذاب ہے اور اگر وہ اہلِ توحید میں سے ہو تو اپنی سزا کاٹ لینے پر آخر اُسے جہنم سے نکال ہی دیا جائیگا اور بعض شارحینِ حدیث کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص خودکشی کی موت کو حلال سمجھ کر خودکشی کرے تو اس سے وہ کافر ہوجائے گااور کافر ہمیشہ کیلئے جہنمی ہے۔[2] بخاری شریف ہی کی ایک حدیث ِ قدسی میں یہ بھی ارشادِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص رخمی تھا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے خودکشی کر لی تو اﷲتعالیٰ نے(اسکی نسبت)ارشاد فرمایا: ((بَدَرَنِیْ عَبْدِیْ بِنَفْسِہٖ،حَرَّمْتُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ))[3] ’’میرے بندے نے اپنی جان لینے کی مجھ سے جلدی کی،میں نے اس پر جنت حرام کردی۔‘‘ خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ؟: خودکشی کی موت مرنے والے کی آخرت تو واضح ہو گئی اور اسکی دنیا میں بھی موت خراب ہونے کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صحیح مسلم اور سننِ اربعہ میں حضرت [1] بخاری مع الفتح ۱۰؍۲۴۷و فتح الباری ۳؍۲۲۷ [2] حوالۂ سابقہ [3] بخاری مع الفتح ۳؍۲۲۷