کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 25
کیا اور اسی پر اسکی وفات ہوگئی تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگیا۔[1] خودکشی کی موت: بعض لوگ اپنی خانگی یا کاروباری پریشانیوں سے دل برداشتہ ہو کر زندگی سے فرار اختیار کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں،اپنے معاملات کو سلجھانے اور دکھ میں صبرو ہمّت سے کام لینے کی بجائے وہ انتہائی بزدلانہ فیصلہ کر لیتے ہیں اور کوئی زہریلی چیز کھا کر،گولی چلا کر،پہاڑ سے گِر کر،رسّی کے ساتھ لٹک کر،پانی میں ڈوب کر اور تیل چھڑک کریا اپنے آپ کو آگ کے حوالے کرکے خودکشی کی حرام موت مرجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چلئے جان تو چھوٹ جائے گی حالانکہ: غم سے گھبراکے کہتے ہیں کہ مرجائیں گے مر کر بھی چین نہ ملا تو کدھر جائیں گے؟ خودکشی کی موت تو اپنے آپ کو معمولی سی پریشانی سے نکال کر ایک دردناک اور مسلسل عذاب میں مبتلا کر لینا ہے کیونکہ صحیح بخاری شریف میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَہٗ بِحَدِیْدَۃٍ عُذِّبَ بَہٖ فِیْ نَارِ جَھَنَّمْ))[2] ’’جس نے لوہے کے کسی ٹکڑے کے ساتھ اپنے آپ کو ہلاک کیا اُسے جہنم کی آگ میں اُسی لوہے کے ٹکڑے کے ساتھ عذاب دیا جائے گا۔‘‘ بخاری شریف ہی کی ایک دوسری حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اَلَّذِیْ یَخْنُقُ نَفْسَہٗ یَخْنَقُہَا فِی النَّارِ وَالَّذِیْ یَطْعَنُھَا یَطْعَنُہَا فِی النَّارِ))[3] ’’جو شخص اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کرتا ہے وہ جہنم کی آگ میں بھی اپنا گلا گھونٹے گا اور جو شخص اپنے جسم پر نیزہ وچُھرا مارتا ہے وہ جہنم کی آگ میں بھی اپنے [1] مسند احمد۵؍۳۹۱ [2] بخاری مع الفتح ۳؍۲۲۶ [3] بخاری مع الفتح ۳؍۲۲۷